
تصویر بشکریہ ایکس
راہل گاندھی نے حال ہی میں ’جن سنسد‘ کے دوران دیہی بینک کے ایس سی، ایس ٹی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کی، جس میں وفد کے اراکین نے ترقی کے عمل میں امتیاز اور ادارہ جاتی ناانصافی کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ کانگریس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفد نے بتایا کہ ترقی کے لیے روسٹر کا واضح اصول موجود ہونے کے باوجود اس پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا جاتا، جس کے نتیجے میں ان طبقات کے ملازمین کو ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وفد کے مسائل کو بغور سنا اور انہیں ایک بار پھر وہی حقیقت نظر آئی جس کا وہ پہلے بھی اظہار کرتے رہے ہیں، یعنی اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر بہوجن طبقات کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق پالیسی سطح پر ایسے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے ترقی کے مواقع محدود کر دیے جاتے ہیں۔
وفد کے اراکین نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کبھی کارکردگی اور کبھی میرٹ کا حوالہ دے کر ان کی ترقی روک دی جاتی ہے، حالانکہ یہ جواز اکثر بے بنیاد ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی ملازم اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو سزا کے طور پر اس کا دور دراز علاقوں میں تبادلہ کر دیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف اس کی پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ذاتی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے کہا کہ ریزرویشن کے باعث ان طبقات کو ابتدائی سطح کی نوکریاں تو مل جاتی ہیں، مگر اس کے بعد اعلیٰ عہدوں تک پہنچنا تقریباً ناممکن بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حقیقت پر حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وہ مسلسل اس مسئلے کو مختلف پلیٹ فارمز پر اٹھاتے رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کا امتیاز نہ صرف سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اداروں کی شفافیت اور کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے ہر طبقے کو ہر سطح پر برابر کی نمائندگی ملنی چاہیے، تاکہ ایک متوازن اور منصفانہ نظام قائم ہو سکے۔
Published: undefined
کانگریس نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف پوری قوت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے گی اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک متاثرہ طبقات کو انصاف نہیں مل جاتا۔ پارٹی کے مطابق یہ مسئلہ محض ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined