
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
جنتر منتر پر طلبا کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو لے کر اپوزیشن لگاتار حکومت کو ہدف تنقید بنا رہی ہے جبکہ حکومت مسلسل اس بربریت کا دفاع کر رہی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کی جانب سے دہلی پولیس کی کارروائی کا دفاع کیے جانے پر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کو ملک کے بچوں سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، کیونکہ ان کے پاس آنکھیں بھی ہیں اور یادداشت بھی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کے وزیر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جنتر منتر پر اتنے بڑے احتجاج کے باوجود کسی شخص کی موت نہیں ہوئی اور مظاہرین کو سنگین چوٹ نہیں لگی، اس لیے دہلی پولیس کی تعریف ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض نصف کلومیٹر دور پُرامن احتجاج کرنے والے طلبا پر پیلٹ گن چلنے، کیل لگی لاٹھیوں کے استعمال اور بچوں کے زخمی ہونے کے واقعات کے بعد پولیس کی تعریف کیسے کی جا سکتی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ خود زخمی طلبا سے ملاقات کر چکے ہیں اور احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہزاروں ویڈیوز ملک کے سامنے موجود ہیں۔ راہل گاندھی نے حکومت پر واقعات سے انکار کرنے کے بجائے ذمہ داری قبول کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی منتر جھوٹ اور تشدد ہے۔ ان کے مطابق پہلے بچوں پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں اور بعد میں کہا جاتا ہے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔
راہل گاندھی نے وزیر داخلہ امت شاہ پر بھی حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پورے پارلیمانی اجلاس کے دوران وہ اپوزیشن سے بچتے رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ وہ طلبا سے معافی کیوں نہیں مانگ رہے۔ یہ تنازعہ ایسے وقت میں مزید اہم ہو گیا ہے جب سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر پولیس کارروائی اور تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بات کہی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے مطابق کمیٹی میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج، ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس اور ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر شامل ہوں گے۔
دوسری جانب کرن رجیجو نے جنتر منتر احتجاج کے دوران دہلی پولیس اور انتظامیہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد کی شرکت کے باوجود کسی شخص کی موت نہیں ہوئی، کسی کی ہڈی نہیں ٹوٹی اور کوئی مظاہرہ کرنے والا سنگین چوٹ کی وجہ سے اسپتال میں داخل نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احتجاج میں بعض مجرم بھی طلبا کے روپ میں شامل ہو گئے تھے اور کچھ سیاسی جماعتوں و تنظیموں سے وابستہ افراد نے مظاہرین کو تشدد پر اکسایا۔
رجیجو کے مطابق مظاہرین کو ابتدا میں روکنے کے لیے ایک بھی لاٹھی استعمال نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مظاہرین نے زبردستی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روکنے کے لیے کارروائی کی۔ انہوں نے کانگریس کے دور حکومت میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کئی مظاہروں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔