قومی خبریں

راہل گاندھی کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ، مودی اور شاہ پر تحفظ دینے کا الزام

راہل گاندھی نے سی ای سی گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ انہیں تحفظ دے رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل اور ووٹوں کے تحفظ پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی</p></div>

راہل گاندھی

 

نئی دہلی، 24 ستمبر: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر انہیں تحفظ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کی تقرری وزیر اعظم مودی نے کی تھی اور ان کے خلاف پہلے لکھے گئے خطوط پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، کیونکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ انہیں بچا رہے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اس معاملے سے متعلق متعدد ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ پہلے کبھی نہیں تھا اور ہندوستان میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت پڑھے لکھے ہیں اور انہیں سمجھنا چاہیے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، انتخابی عمل میں جو کچھ ہوا ہے وہ ہندوستان کے خلاف ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری لوگوں کے ووٹوں کی حفاظت کرنا ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ گیانیش کمار کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لوگوں کے ووٹ کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے اور اس معاملے میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی مبینہ سازش کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

راہل گاندھی نے انتخابی عمل اور جمہوریت پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ووٹ پر حملہ نہیں بلکہ اس بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے جو لوگوں کو اپنا رہنما منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ووٹ ختم ہو جائے تو آئین بھی کام نہیں کر سکتا۔

پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے اینٹی انکمبنسی یعنی حکومت کے خلاف عوامی رجحان کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مہاراشٹر، ہریانہ اور مدھیہ پردیش جیسے ریاستوں میں اینٹی انکمبنسی کا اثر کیوں نظر نہیں آیا اور بی جے پی مسلسل انتخابات میں کامیابی کیسے حاصل کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اینٹی انکمبنسی ایک ایسی طاقت ہے جو عام طور پر حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت پیدا کرتی ہے اور اس سے کوئی حکومت بچ نہیں سکتی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہریانہ میں مختلف حکومتوں کے خلاف برسوں سے موجود اینٹی انکمبنسی کا رجحان ختم ہو گیا، مہاراشٹر میں بھی ایسا ہوا، جبکہ گجرات سمیت کئی دیگر ریاستوں میں بھی اس رجحان کے بارے میں سوال اٹھتا ہے۔

انہوں نے اس کا موازنہ ایسے ممالک سے کیا جہاں جمہوری نظام موجود نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ عراق اور شمالی کوریا میں اینٹی انکمبنسی نہیں ہوتی، کیونکہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسی تناظر میں ہندوستان میں انتخابی عمل اور ووٹوں کے تحفظ سے متعلق سوالات اہم ہو جاتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔