قومی خبریں

’آگے کنواں پیچھے کھائی‘ راہل گاندھی نے امریکہ تجارتی معاہدہ کپاس کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے تباہ کن قرار دے دیا

راہل گاندھی نے امریکہ سے مجوزہ تجارتی معاہدے کو کپاس کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی کپاس منگوانے کی شرط سے یا تو کسان متاثر ہوں گے یا برآمدی شعبہ کمزور پڑ جائے گا

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ مرکز کی مودی حکومت نے کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے مفادات کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوراندیش حکومت ایسا معاہدہ کرتی جو دونوں شعبوں کے تحفظ اور ترقی کو یقینی بناتا لیکن موجودہ حکومت نے اس کے برعکس قدم اٹھایا ہے۔

Published: undefined

راہل گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ٹیرف کے فرق کو اصل مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کو امریکہ میں گارمنٹس کی برآمد پر صفر فیصد ٹیرف کی سہولت دی جا رہی ہے، بشرطیکہ وہ امریکی کپاس درآمد کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی مصنوعات پر 18 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کی برآمدی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی رعایت حاصل کرنے کے لیے امریکہ سے کپاس منگوانا لازمی ہے تو یہ شرط عوام سے کیوں چھپائی گئی۔

Published: undefined

کانگریس کے رہنما نے کہا کہ اگر ہندوستان امریکی کپاس درآمد کرتا ہے تو مقامی کسانوں کی پیداوار متاثر ہوگی اور انہیں قیمتوں میں گراوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب اگر یہ شرط قبول نہیں کی جاتی تو ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال ’آگے کنواں پیچھے کھائی‘ جیسی ہے، جہاں دونوں راستے مشکلات کی طرف لے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کپاس کی کاشت اور ٹیکسٹائل صنعت کروڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ ایسے میں کسی بھی غیر متوازن معاہدے کا اثر لاکھوں خاندانوں کی معاشی حالت پر پڑ سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی کابینہ نے ایسا سمجھوتہ کیا ہے جو طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

ادھر حکومت کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ اپوزیشن کسانوں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے اور معاہدے کی تفصیلات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا جب بنگلہ دیش کو دی جانے والی مبینہ رعایتوں کا ذکر سامنے آیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ شرائط یکساں نہیں ہیں تو اس سے ملکی صنعت کو نقصان ہوگا۔ جبکہ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں مکمل تفصیلات پیش کرے اور کسانوں کے تحفظ کی واضح ضمانت دے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined