
تصویر اے آئی
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ہندوستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت دو طاقتیں کام کر رہی ہیں، ایک اظہارِ رائے کی طاقت اور دوسری نظام کی طاقت۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی دور کو ان دونوں طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔
اپنے تازہ پوڈکاسٹ میں راہل گاندھی نے 13 اگست 2026 کو نئی دہلی میں کانگریس کے قومی اجلاس میں دی گئی اپنی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان میں عام لوگوں، طلبہ اور متاثرین کو اپنی بات کہنے کی آزادی کے معاملے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر طلبہ کے مظاہروں اور اتراکھنڈ کی ایک ایسی ماں کا ذکر کیا، جس کی بیٹی کے ساتھ مبینہ طور پر چار سال قبل عصمت دری اور قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔
راہل گاندھی کے مطابق دونوں معاملات میں متاثرہ افراد صرف اپنی آواز بلند کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کی گئی کہ ان کی آواز سے ’بدنظمی‘ یا ’امن و امان‘ متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کی سیاسی سوچ ایک ایسے نظام کو مضبوط کرنے کی ہے جو محدود لوگوں کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں ہر شخص کو، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب اس کی بات ناگوار یا بے آرام کرنے والی ہو، کھل کر اظہار کا موقع ملے۔
آر ایس ایس اور بڑے سرمایہ داروں کے تعلق پر بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ یہ تنظیم تاریخی طور پر چھوٹے تاجروں، کاریگروں، دکانداروں، سناروں اور لوہاروں جیسے طبقات سے نکلی تھی۔ ان کے مطابق نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے غلط نفاذ جیسے پالیسی فیصلوں نے چھوٹے کاروباری طبقے کو نقصان پہنچایا اور اس خلا میں بڑے کارپوریٹ مفادات کے لیے جگہ بنی۔
انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی کے دور سے شروع ہونے والا یہ رجحان موجودہ حکومت کے دوران مزید بڑھا ہے اور آج آر ایس ایس ایک آزاد تحریک کے بجائے بڑے سرمایہ داروں کے مفادات کے لیے زیادہ کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے راہل گاندھی نے کہا کہ سفارت کاری کو ذاتی گرمجوشی، دوستی یا عالمی رہنماؤں سے گلے ملنے کے بجائے قومی مفادات کے تحفظ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایران، امریکا اور پاکستان سے متعلق حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ’کنفیوژن‘ کا شکار قرار دیا۔
انہوں نے گلوان سرحدی تنازعہ کے بعد دیے گئے سرکاری بیانات، مشرقی لداخ اور اروناچل پردیش میں گشت کے حقوق اور زمینی صورتِ حال کے حوالے سے حکومت اور فوجی حکام کے بیانات میں مبینہ فرق کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سے متعلق ایسی چوکوں سے حکومت مسلسل انکار کرتی رہی ہے، حالانکہ یہ سنجیدہ معاملات ہیں۔
اختتام پر راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستانی روایت میں مخالف کو دشمن کے بجائے استاد سمجھنے کی گنجائش ہے۔ ان کے مطابق کسی شخص کو نفرت کے بجائے محبت کے ذریعے درست کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی فرد کو کسی ایک شناخت یا خانے میں محدود نہیں کیا جا سکتا اور ہر شخص کو بغیر خوف اپنی بات کہنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سچ، عدم تشدد، محبت، انصاف اور اظہارِ رائے کی آزادی اس جدوجہد کی بنیاد ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔