قومی خبریں

کیمرے سے تاریخ رقم کرنے والے ’فوٹو جرنلسٹ‘ رگھو رائے کا 83 سال کی عمر میں انتقال، کھڑگے اور راہل گاندھی کا اظہار تعزیت

ملکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’رگھو رائے کے انتقال کی خبر سے گہرا صدمہ پہنچا۔ وہ ہندوستان کے ممتاز ترین فوٹوگرافروں میں سے ایک اور 5 دہائیوں سے زائد عرصے تک ایک عظیم فوٹو جرنلسٹ رہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@kharge</p></div>

تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @kharge

 

ملک کے مشہور فوٹوگرافر اور دنیا کے عظیم فوٹو جرنلسٹوں میں شمار ہونے والے رگھو رائے کا اتوار (26 اپریل) کو 83 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کے اہل خانہ نے اس بات کی اطلاع ان کے آفیشل ’انسٹاگرام‘ اکاؤنٹ کے ذریعے دی۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی آخری رسومات آج شام 4 بجے دہلی کے لودھی شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔ ان کے انتقال سے میڈیا اور فن کی دنیا میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

Published: undefined

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعہ رگھو رائے کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس صدر لکھتے ہیں کہ ’’رگھو رائے کے انتقال کی خبر سے گہرا صدمہ پہنچا۔ وہ ہندوستان کے ممتاز ترین فوٹوگرافروں میں سے ایک اور 5 دہائیوں سے زائد عرصے تک ایک عظیم فوٹو جرنلسٹ رہے۔ پدم شری ایوارڈ یافتہ، ان کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کی طاقتور کوریج، اور اندرا گاندھی سمیت کئی نمایاں شخصیات کی تصاویر ہماری اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ نقش رہیں گی۔ ان کے اہل خانہ، دوستوں اور شاگردوں سے دلی تعزیت۔‘‘

Published: undefined

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’رگھو رائے جی کے کیمرے نے 6 دہائیوں سے زائد عرصے تک ہندوستان کی روح کو محفوظ کیا، جس میں یہاں کے لوگ، ان کی جدوجہد، خوشیاں اور ان کے اہم لمحات شامل ہیں۔ انہوں نے محض تصاویر نہیں کھینچیں، بلکہ ہماری قوم کی یادداشت کو محفوظ کیا۔ میری دلی تعزیت ان کے اہل خانہ، ان کے ساتھیوں اور ان بے شمار مداحوں کے ساتھ ہے جنہیں ان کے کام نے نسل در نسل متاثر کیا۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ رگھو رائے کو ہندوستان میں فوٹوگرافی اور فوٹو جرنلزم کا بانی مانا جاتا تھا۔ ان کا کیریئر 50 سال سے بھی زیادہ طویل رہا۔ اس دوران انہوں نے ملک اور دنیا کے کئی بڑے واقعات کو اپنے کیمرے میں قید کیا۔ ان کی تصاویر محض تصویریں نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ 1971 میں ہندوستانی حکومت نے انہیں ’پدم شری‘ کے اعزاز سے نوازا تھا۔ ان کی سب سے زیادہ معروف تصاویر میں بھوپال گیس سانحے کے بعد کی وہ تصویر شامل ہے، جس میں ایک معصوم بچے کا بے جان جسم نظر آتا ہے۔ اس تصویر نے پوری دنیا کی توجہ اس دردناک حادثے کی جانب مبذول کرائی اور کمپنیوں کی ذمہ داری پر سوالات کھڑے کیے۔

Published: undefined

رگھو رائے نے ملک کی کئی اہم شخصیات کی تصاویر بھی کھینچیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے ساتھ طویل عرصے تک کام کیا اور ان کی زندگی کے خاص لمحات کو کیمرے میں محفوظ کیا۔ اس کے علاوہ مدر ٹریسا پر ان کی فوٹوگرافی کافی مشہور رہی۔ مدر ٹریسا کو ’سینٹ‘ قرار دیے جانے سے قبل ہی رگھو رائے نے ان پر ’سینٹ مدر‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ 1942 میں غیر منقسم ہندوستان کے جھنگ (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہونے والے رگھو رائے نے 1962 میں فوٹوگرافی کو اپنا پیشہ بنایا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز اخبار ’دی اسٹیٹسمین‘ سے کیا اور بعد میں طویل عرصے تک ’انڈیا ٹوڈے‘ میگزین سے وابستہ رہے۔ وہ دنیا کی مشہور فوٹوگرافی تنظیم ’میگنم فوٹوز‘ کے ابتدائی ہندوستانی اراکین میں شامل تھے۔ اپنی زندگی میں انہوں نے 18 سے زیادہ کتابیں بھی لکھیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined