
پنجاب میں آئندہ سال اسمبلی انتخاب ہونا ہے، جس کے لیے سیاسی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ کانگریس نے پنجاب کی موجودہ سیاسی صورت حال کا جائزہ لینے اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے 3 اہم لیڈران اجئے ماکن، میناکشی نٹراجن اور بھجن لال جاٹو کو مبصر مقرر کیا ہے۔ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے انہیں فوری اثر سے یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب چند روز قبل پنجاب کانگریس کے انچارج بھوپیش بگھیل نے کہا تھا کہ ریاست میں قیادت کی تبدیلی کی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخاب تمام لیڈران مل کر لڑیں گے۔ بھوپیش بگھیل نے یہ بات 2 جون کو کانگریس صدر کھڑگے، راہل گاندھی اور کے سی وینوگوپال کے ساتھ ہوئی میٹنگ کے بعد کہی تھی۔
Published: undefined
پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر بگھیل نے کہا تھا کہ ’’میں چند روز پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اس پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ ہم سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔ قیادت کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ امریندر سنگھ راجہ وڈنگ کے بارے میں بگھیل نے کہا تھا کہ وہ پنجاب کانگریس کے صدر ہیں اور ریاست میں اگلا انتخاب کھڑگے اور راہل گاندھی کی قیادت میں لڑا جائے گا۔ ریاستی قیادت مل کر انتخابی معرکہ لڑے گی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ 12 جون کو کھڑگے نے تمام کانگریس جنرل سکریٹریوں، انچارجوں اور پردیش کانگریس صدور کی میٹنگ طلب کی تھی۔ اس میٹنگ میں موجودہ سیاسی حالات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، جئے رام رمیش اور کے سی وینوگوپال شریک بھی ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں آسام کے گورو گوگوئی، مدھیہ پردیش کے ہریش چودھری، تلنگانہ کے بومّا مہیش کمار گوڑ، گوا کے گریش چوڈنکر اور پنجاب کے امریندر سنگھ راجہ وڈنگ بھی میٹنگ میں شریک ہوئے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined