قومی خبریں

کہیں الٹا نہ پڑ جائے گاڑیوں میں 6 ایئربیگ کا انتظام، آئی آر ایف نے حکومت سے کی نوٹیفکیشن واپس لینے کی گزارش

آئی آر ایف نے مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ نتن گڈکری سے گزارش کی ہے کہ وہ یکم اکتوبر 2023 سے مسافر گاڑیوں میں 6 ایئربیگ لازمی قرار دینے والے نوٹیفکیشن کو واپس لے لیں۔

ایئربیگ، تصویر آئی اے این ایس
ایئربیگ، تصویر آئی اے این ایس 

سڑک سیکورٹی ادارہ انٹرنیشنل روڈ فیڈریشن (آئی آر ایف) نے مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری سے گزارش کی ہے کہ وہ یکم اکتوبر 2023 سے مسافر گاڑیوں میں 6 ایئربیگ لازمی قرار دینے والے نوٹیفکیشن کو واپس لے لیں۔ آئی آر ایف نے کہا کہ یہ برعکس ہو سکتا ہے جس کے نتیجہ کار زیادہ سنگین چوٹیں اور اموات ہو سکتی ہیں اگر گاڑیوں میں مسافروں کے ذریعہ سیٹ بیلٹ نہیں پہنی جاتی ہے۔

Published: undefined

وزارت کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ جب 85 فیصد لوگ پیچھے کی سیٹ بیلٹ پہننا شروع کر دیں تو مسافر گاڑیوں میں 6 ایئربیگ لازمی کر دیئے جائیں۔ انٹرنیشنل روڈ فیڈریشن کے سربراہ امیریٹس کے کے کپلا نے کہا کہ ’’ایک بار جب یہ نمبر پورے ہندوستان میں 85 فیصد کو پار کر جاتا ہے تو حکومت کو 6 ایئربیگ کی اس سہولت کو آگے بڑھانا چاہیے۔ ورنہ یہ معاملہ الٹا پڑ جائے گا اور ہم مزید ہلاکتیں دیکھیں گے۔‘‘

Published: undefined

کپلا کا کہنا ہے کہ ’’جب تک لوگ پیچھے کی سیٹ بیلٹ پہننا شروع نہیں کرتے، 6 ایئربیگ کا سسٹم الٹا پڑ جائے گا۔ یعنی زیادہ خطرناک حادثات پیش آ سکتے ہیں۔ ایک حادثہ میں سیٹ بیلٹ ترجیحی حفاظتی سامان ہوتی ہیں جب کہ ایئربیگ ضمنی سامان ہوتا ہے۔ بلکہ کئی عالمی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر بغیر سیٹ بیلٹ کے ایک ایئربیگ تعینات کیا جاتا ہے تو اس سے سنگین چوٹ لگ سکتی ہے اور یہاں تک کہ موت بھی ہو سکتی ہے۔‘‘

Published: undefined

کپلا اس معاملے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’سیٹ بیلٹ اور ایئربیگ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ بغیر سیٹ بیلٹ والے ایئربیگ سے سنگین چوٹ لگ سکتی ہے اور موت بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے سنگین چوٹ سے بچنے کے لیے سیٹ بیلٹ کا استعمال کرنا چاہیے۔ ایئربیگ کو خصوصی طور پر سیٹ بیلٹ کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جو سنگین چوٹوں کی وجہ بن سکتے ہیں جو سیٹ بیلٹ کے ذریعہ ٹھیک سے منظم نہیں ہوتے ہیں، جب ایئر بیگ موجود ہوتے ہیں تو وہ ’حالات سے باہر‘ ہوتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined