قومی خبریں

ہلدوانی ’شدھی کرن‘ معاملہ پر پرینکا گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی سے معافی کا مطالبہ

پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ’’ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی تقریر کے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کرنا بی جے پی-آر ایس ایس کی گری ہوئی ذہنیت کا مظاہرہ ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p> پرینکا گاندھی (ویڈیو گریب)</p></div>

پرینکا گاندھی (ویڈیو گریب)

 

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ (8 اگست) کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی واقع رام لیلا میدان میں ہوئی ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ سے خطاب کیا تھا۔ کھڑگے ریلی کر کے واپس دہلی آ گئے، لیکن اب رام لیلا میدان میں ’شدھی کرن‘ پوجا کی خبر سرخیوں میں ہے، جس پر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی تقریر کے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کرنا بی جے پی-آر ایس ایس کی گری ہوئی ذہنیت کا مظاہرہ ہے۔ وزیر اعظم مودی کو اس کی مذمت کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ کا اجلاس مکمل ہو گیا اور آج وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آئے ہیں، تو یہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کیسے چلے گی؟‘‘

ہلدوانی ’شدھی کرن‘ معاملے پر پارلیمانی احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’ہلدوانی میں جو ہوا وہ ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے اور یہ ملک کو تقسیم کرنے کا کام کرتا ہے۔ اگر بی جے پی کے اصولوں پر یقین رکھنے والے لوگ مذہب کے نام پر ’شدھی کرن‘ کرتے ہیں تو یہ ملک کو برباد کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں اس رویے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ ہلدوانی میں ’شدھی کرن‘ کرنے والے تمام لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، انہیں گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘

پارلیمانی احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم پہلے سے کہتے آ رہے ہیں کہ اس ملک میں دلتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ آخر وہاں ’ہَون‘ کی کیا ضرورت تھی؟ ہلدوانی، اتراکھنڈ کے رام لیلا میدان میں ہر پارٹی کے لوگ جلسۂ عام کرتے ہیں لیکن وہاں جو کچھ کیا گیا وہ ہندو مذہب کے خلاف ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کے لوگ ملک کو تقسیم کرنے اور ذاتوں  کے درمیان جھگڑا کرانے کا کام کر رہے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔