قومی خبریں

چراغ پاسوان سے پارٹی کی صدارت بھی چھین لینے کی تیاری! پٹنہ میں اہم اجلاس طلب

رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران چراغ پاسوان کے مقام پر پشوپتی کمار پارس کو پارٹی کا قومی صدر اور پارلیمانی بورڈ کا صدر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے مجلس عاملہ کے ارکان سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔

چراغ پاسوان
چراغ پاسوان 

نئی دہلی: لوک جن شکتی پارٹی میں جاری جنگ کے دوران بھتیجے چراغ پاسوان کو چچا پشوپتی کمار پارس کی طرف سے ایک اور زبردست جھٹکا دینے کی تیاری چل رہی ہے۔ این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ چراغ پاسوان سے پارٹی کی صدارت بھی چھینی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل ان سے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے قائد کا عہدہ چھینا جا چکا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق پشوپتی کمار پارس اور دیگر پٹنہ جائیں گے اور جلد ہی پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کریں گے۔ اس اجلاس کے دوران چراغ پاسوان کے مقام پر پشوپتی کمار پارس کو پارٹی کا قومی صدر اور پارلیمانی بورڈ کا صدر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے مجلس عاملہ کے ارکان سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

قبل ازیں، پیر کی دیر شام پشوپتی کمار پارس، چراغ پاسوان کی جگہ لوک سبھا میں ایل جے پی کے قائم بن گئے اور اسپیکر اوم برلا نے اس کی توثیق بھی کر دی! پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ محبوب علی قیصر کو نپشوپتی پارس کا نائب مقرر کیا گیا ہے، جبکہ چندن سنگھ کو پارٹی کا چیف وِپ مقرر کیا گیا ہے۔

Published: undefined

خیال رہے کہ لوک جن شکتی پارٹی کے 6 میں سے 5 ارکان پارلیمنٹ پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان سے بغاوت کر کے اپنی راہیں جدا کر چکے ہیں۔ بغاوت کرنے والے ارکان پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس، چندن سنگھ، پرنس راج، وینا دیوی اور محبوب علی قیصر ہیں۔

Published: undefined

چراغ پاسوان کو پارٹی سے دور کرکے باغی لیڈران کو امید ہے کہ بہار حکومت میں ان کی پارٹی کی ساکھ اس سے مضبوط ہو سکتی ہے۔ پارٹی کا فی الحال کوئی رکن اسمبلی نہیں ہے لیکن آنے والے وقت میں قانون ساز کونسل کے راستے کسی لیڈر کو رکن نامزد کرائے جانے کی توقع ہے۔ وہیں پشوپتی کمار پارس کو مرکز میں وزارت کا عہدہ حاصل ہونے کا بھی امکان ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined