
شعلہ بیان ہندو رہنما پراچی نے کملیش تیواری کے قتل کے بعد اپنی جان کو خطرے میں بتایا ہے۔ اس نے دعوی کیا ہے کہ کملیش تیواری کو مبینہ اسلامی جہادیوں نے مارا ہے۔ واضح رہے کہ پراچی کو اکثر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے لئے جانا جاتا ہے۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
ہریدوار میں صحافیوں سے بات چیت کے دوان خود ساختہ سادھوی نے اتوار کے روز مرکزی وزیر داخلہ اور اتراکھنڈ و اتر پردیش کی حکومتوں سے خود کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔
خوفزدہ پراچی نے کہا، ’’آئی ایس سے مجھے کئی مرتبہ دھمکیاں مل چکی ہیں۔ میں بھگوان پر بہت زیادہ عقیدہ رکھتی ہوں اور اب تک اس کا تذکرہ نہیں کیا لیکن اب کملیش تیواری کے قتل نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔‘‘
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
پراچی نے مزید کہا، ’’کچھ روز قبل کچھ نامعلوم افراد میرے آشرم میں آئے تھے اور میرے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے حفاظت کی ضرورت ہے۔‘‘ پراچی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے ذریعہ ہندوستان میں جہادیوں کی سرپرستی کی جارہی ہے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
پراچی نے کہا ، ’’یوگی حکومت کو اس بات کی تحقیقات کرنی چاہئے کہ کملیش تیواری کی سیکیورٹی کو کیوں ہٹایا گیا تھا اور اس کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔‘‘
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
قابل ذکر ہے کہ ہندو مہاسبھا کے سابق رہنما اور ہندو سماج پارٹی کے سربراہ کملیش تیواری کو جمعہ کے روز لکھنؤ میں اس کے دفتر پر گلا کاٹنے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ کملیش تیواری کو مسلمانون کے خلاف بیان بازی کے لئے جانا جاتا تھا اور پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کے بعد اسے جیل میں بھی جانا پڑا تھا۔ کملیش تیواری اس وقت ضمانت پر جیل کے باہر تھا۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 20 Oct 2019, 9:00 PM IST