
سپریم کورٹ آف انڈیا
عدالتوں میں کافی کوششوں کے باوجود لوگوں کو انصاف کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ سپریم کورٹ بھی زیر التواء مقدمات کی جلد از جلد سماعت کر کے معاملے کو ختم کرنے کی بات کرتا ہے، اس کے باوجود کوئی بہتری نہیں آ رہی ہے۔ 2011 سے کورٹ کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور عدالتی نظام میں تکنیک کو شامل کرنے کے لیے تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود دہائیوں سے زیر التواء متعدد مقدمات کے حل کرنے پر اس مہم کا بہت کم اثر پڑا ہے۔ سپریم کورٹ میں 10 برسوں سے بھی زیادہ وقت میں 10 ہزار سے زیادہ مقدمات زیر التواء ہیں۔ ان میں 558 معاملے 20 برسوں سے زیادہ تو 26 معاملے 30 برسوں سے بھی زیادہ وقت سے زیر التواء ہیں۔
ملک بھر کے 25 ہائی کورٹ میں 80000 سے زیادہ مقدمات 30 برسوں سے بھی زیادہ وقت سے زیر التواء ہیں۔ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے زیر التواء مقدمات کے نمٹارے کی ذمہ داری عدلیہ پر ڈالی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کورٹ نے ان کے نمٹارے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عدالتوں میں مقدمات کا وقت پر حل ہونا کئی باتوں پر منحصر ہوتا ہے، مثلاً کافی تعداد میں جج اور عدالتی افسران کی دستیابی، کورٹ کے معاون ملازمین اور فزیکل انفراسٹرکچر، معاملات کی پیچیدگی، ثبوت کی نوعیت، اسٹیک ہولڈرز کا تعاون اور اس میں قواعد و ضوابط کی مناسب پابندیاں شامل ہوتی ہے۔‘‘
اگرچہ سپریم کورٹ خالی آسامیوں پر ججوں کی تقرری میں تیز رفتاری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ لیکن 25 ہائی کورٹ اور نچلی عدالتوں میں حالات ایسے نہیں ہیں۔ ہائی کورٹ میں ججوں کی 1122 منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے 341 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ نچلی عدالتوں میں تو حالات اور بھی خراب ہیں۔ یہاں ججوں کے 30868 منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے 7311 اسامیاں خالی ہیں۔ وزیر قانون میگھوال نے ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کی سفارش شروع کرنے اور طے شدہ وقت پر عمل نہیں کرنے کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ کالجیم کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ جو بڑی تعداد میں خالی پڑی اسامیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہائی کورٹ کالجیم میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور 2 سب سے سینئر جج شامل ہوتے ہیں۔
اسی طرح سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کا عمل ملک کے چیف جسٹس شروع ہوتے ہیں۔ میگھوال نے کہا کہ ’’ 5 برسوں سے بھی زیادہ وقت سے زیر التواء معاموں کو نمٹانے کے لیے سبھی 25 ہائی کورٹ اور ضلع عدالتوں میں ’اریئر کمیاٹیاں‘ (بقایاجات معاملے کی کمیٹیاں) بنائی گئی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت نے زیر التواء معاملوں کو کم کرنے کے مقصد سے نئے کرمنل لا 2023، نیگوشی ایبل انسٹرومینٹس (ترمیمی) ایکٹ 2018، کمرشل کورٹس (ترمیمی) ایکٹ 2018 اور اسپیسفیک ریلیف (ترمیمی) ایکٹ 2018 بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔