قومی خبریں

طلباء کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں پی جی مالکان!

ستیہ نکیتن حادثہ کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ جائے حادثہ کے قریب متعدد عمارتوں میں طلباء کو کمرے فراہم کیے جا رہے ہیں جن کی حفاظت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

تصویر بشکریہ آئی اے این ایس

 

ستیہ نکیتن حادثے کے بعد حکومت اور انتظامیہ نے دہلی کی عمارتوں کا سٹرکچرل آڈٹ کرنے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم نیوز پورٹل ’ آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق کہ جائے حادثہ کے قریب کئی عمارتوں میں طلباء کو کمرے فراہم کیے جا رہے ہیں جن کی حفاظت پر سوال اٹھا ئے جاتے ہیں ۔ اس واقعے میں عمارت کے مالک 81 سالہ حریرام، ان کی اہلیہ 75 سالہ ارمیلا اور ان کے بیٹے 52 سالہ مہیش کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

نیوز پورٹل ‘آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق جائے حادثہ سے تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر واقعہ ایک بروکر نے  پانچ منزلہ پی جی میں کمرے دکھائے۔ ان کمروں کی غیر ایئر کنڈیشند کمروں کی قیمت 9,000 سے 12,000 روپے اور اے سی کمروں کے لیے 18,000 اور 20,000 روپے کے درمیان ہے۔ ایک کمرہ لینے کے لیے ایک ماہ کا ایڈوانس اور 15 دن کا بروکریج درکار ہے۔ چھ ماہ کی کم از کم لاک ان مدت بھی بتائی گئی ہے۔

علاقے کی گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ اس بارے میں سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا ہنگامی صورت حال میں فائر انجن یا ایمبولینسیں بروقت جائے وقوعہ پر پہنچ سکیں گی۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق بعد میں کئی پرانی عمارتوں میں اضافی منزلیں شامل کر دی گئیں۔ ایسی تعمیرات میں عمارت کا بنیادی ڈھانچہ اور بنیاد کی مضبوطی ایک اہم مسئلہ بن جاتی ہے۔

ستیہ نکیتن حادثہ  کے بعد انتظامیہ نے کارروائی اور ڈھانچہ جاتی آڈٹ کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ ان علاقوں میں باقاعدہ نگرانی کیوں نہیں کی گئی جہاں اضافی منزلیں، پی جی اور تجارتی سرگرمیاں طویل عرصے سے چل رہی ہیں؟ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایم سی ڈی کو ان تعمیرات کا علم نہیں تھا؟ اور اگر تھا تو ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟ اور اگر کارروائی ہوئی تو ایسی تعمیرات اور پی جی کیسے چلتے رہے؟

ملک بھر سے طلباء دارالحکومت میں پڑھنے کے لیے دہلی یونیورسٹی آتے ہیں۔ ہاسٹل کی محدود نشستیں طلباء کی ایک بڑی تعداد کو پی جی اور کرائے کے کمروں کا سہارا لینے پر مجبور کرتی ہیں اور اسی بے بسی کا یہ پی جی مالکان فائدہ اٹھاتے ہیں۔ زیادہ کرایہ اور محدود اختیارات کا سامنا کرتے ہوئے، طلباء اکثر ایسے کمروں کا انتخاب کرتے ہیں جو سستےہوں اور کالج کے قریب ہوں۔ اس کے نتیجے میں، وہ عمارت کی ساختی حفاظت کا اچھی طرح سے معائنہ نہیں کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔