قومی خبریں

رام مندر چندہ تنازعہ: پون کھیڑا کا بی جے پی، آر ایس ایس اور ٹرسٹ پر حملہ، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

پون کھیڑا نے رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری کے معاملے پر بی جے پی، آر ایس ایس اور مندر ٹرسٹ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے فارنسک آڈٹ، ڈیجیٹل جانچ اور موجودہ ٹرسٹ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا / ویڈیو گریب</p></div>

پون کھیڑا / ویڈیو گریب

 

کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے ایودھیا کے رام مندر میں عقیدت مندوں کے چندے کی مبینہ چوری کے معاملے پر بی جے پی، آر ایس ایس اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مندر کو عقیدت مندوں کی خدمت کے بجائے چندہ جمع کرنے کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ترواننت پورم میں کانگریس کے ریاستی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ کانگریس ان لاکھوں عقیدت مندوں کی آواز اٹھا رہی ہے جنہوں نے رام مندر کی تعمیر اور بھگوان رام کے نام پر اپنی محنت کی کمائی، زیورات اور دیگر قیمتی اشیا نذرانے کے طور پر پیش کی تھیں۔ ان کے مطابق اگر چندے میں خرد برد ہوئی ہے تو یہ صرف رقم یا سامان کی چوری نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور مذہبی عقیدت کے ساتھ بھی دھوکہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قائم کیے گئے شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کو مندر کے انتظام، یاتریوں کی سہولت اور چندے کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، لیکن ٹرسٹ اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں جواب دہی طے ہونی چاہیے۔

کانگریس رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی، آر ایس ایس اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنے سنگین معاملے پر کسی کی جانب سے وضاحت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسی بااثر شخصیت یا گروہ کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

پون کھیڑا نے مزید کہا کہ اگرچہ ایک بڑی تعمیراتی کمپنی نے رام مندر کی تعمیر انتہائی کم لاگت پر کرنے کی پیش کش کی تھی اور پتھر فراہم کرنے والوں نے بھی رعایتی نرخوں کی بات کی تھی، اس کے باوجود منصوبے پر تقریباً اکیس سو کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے مندر کے اطراف زمین کی خریداری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ ضروری ہے۔

انہوں نے موجودہ ٹرسٹ کو تحلیل کرنے، مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور باوقار افراد پر مشتمل نیا انتظامی ادارہ قائم کرنے، ٹرسٹ کے مالی ریکارڈ، چندے، نذرانوں اور زمین سے متعلق لین دین کا فارنسک آڈٹ اور ڈیجیٹل فارنسک جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ برسوں سے بھگوان رام کے نام پر جمع کیے جانے والے چندے کے استعمال پر شفافیت نہیں رہی، اس لیے پورے معاملے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات وقت کی ضرورت ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔