قومی خبریں

نیٹ یو جی تنازعہ: پون کھیڑا نے این ٹی اے کے دعوے پر اٹھائے سوال، کہا، ’سوال باہر آئے تو امتحان شفاف کیسے؟‘

نیٹ یو جی 2026 تنازع پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے این ٹی اے کے دعوے کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سوال امتحان سے پہلے باہر آنا بھی شفافیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ معاملے کی جانچ سی بی آئی کر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا / آئی اے این ایس</p></div>

پون کھیڑا / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: نیٹ یو جی 2026 امتحان سے جڑے تنازعہ پر کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی یعنی این ٹی اے کے اس دعوے پر سوال اٹھایا ہے کہ مکمل پیپر لیک نہیں ہوا تھا بلکہ صرف کچھ سوال امتحان سے پہلے باہر آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سوال پہلے ہی کچھ لوگوں تک پہنچ گئے تھے تو پھر امتحان کی شفافیت پر سوال کھڑے ہونا فطری بات ہے۔

Published: undefined

پون کھیڑا نے ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے این ٹی اے کے موقف پر طنز کیا اور کہا کہ ’’پیپر لیک نہیں ہوا، سوال باہر آ گئے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر امتحان سے پہلے سوال باہر پہنچتے ہیں تو اس سے امتحان کے غیر جانبدار ہونے پر سوال اٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2024 میں بھی پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا تھا اور اس وقت جانچ سی بی آئی تک پہنچی تھی۔ ان کے مطابق جانچ کے عمل میں تاخیر ہوئی اور عدالت نے بھی ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر ویسی ہی صورتحال بنتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے نوجوانوں کا حال اور مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔

Published: undefined

نیٹ یو جی 2026 امتحان تین مئی کو منعقد کیا گیا تھا۔ امتحان کے بعد مختلف ریاستوں اور سوشل میڈیا پر یہ دعوے سامنے آنے لگے کہ سوالات امتحان شروع ہونے سے پہلے کچھ افراد تک پہنچ گئے تھے۔ معاملہ بڑھنے کے بعد 11 مئی کو امتحان منسوخ کر دیا گیا اور اب دوبارہ امتحان 21 جون کو کرایا جائے گا۔

معاملے کی جانچ اس وقت سی بی آئی کر رہی ہے۔ جانچ ایجنسی اب تک راجستھان، ہریانہ اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں سے نو ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ جمعرات 21 مئی کو این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ اور چیئرمین پردیپ کمار جوشی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران این ٹی اے نے دعویٰ کیا کہ مکمل پیپر لیک نہیں ہوا تھا بلکہ صرف کچھ سوال امتحان سے پہلے باہر آئے تھے۔

اسی دعوے کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ اگر سوال پہلے ہی کچھ افراد تک پہنچ جائیں تو کیا اسے امتحان کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہونے والا معاملہ نہیں مانا جانا چاہیے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ پیپر لیک اور سوالات باہر آنے میں عملی فرق کیا ہے۔

پون کھیڑا نے حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ نوجوانوں، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، خواتین کی سلامتی اور دیگر عوامی معاملات پر سنجیدگی سے جواب دیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل آج جواب مانگ رہی ہے اور اس کے سوالوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined