پاٹلی پتر جنکشن (ویڈیو گریب)
بہار پولیس محکمۂ انسداد ممنوعات کا امتحان دینے جا رہے امیدواروں کا احتجاج اتوار کو پٹنہ کے پاٹلی پتر ریلوے اسٹیشن پر پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ ٹرین کے انتظامات سے ناراض امیدواروں نے زبردست ہنگامہ آرائی کی اور امتحان کے لیے چلائی گئی اسپیشل ٹرین میں توڑ پھوڑ کی۔ حالات خراب ہونے پر پولیس کو آنسو گیس کے گولے چھوڑنے، لاٹھی چارج کرنے اور وارننگ کے طور پر ہوائی فائرنگ کرنی پڑی۔
Published: undefined
موصولہ اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں امیدوار امتحانی مراکز تک پہنچنے کے لیے اسٹیشن پر جمع ہوئے تھے۔ اس دوران ٹرینوں کے انتظامات کو لے کر ناراضگی بڑھ گئی اور کچھ لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ سنگین ہو گیا اور مظاہرین نے ٹرین میں توڑ پھوڑ کے ساتھ ریلوے کی آمد و رفت کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
Published: undefined
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامی افسران موقع پر پہنچے۔ بھیڑ کو پرامن کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن صورتحال قابو سے باہر ہوتی دیکھ کر پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران آئی جی سمیت کئی افسران کو معمولی چوٹیں آنے کی بھی اطلاع ہے۔ واقعے کے بعد اسٹیشن کے احاطے اور قریبی علاقوں میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پاٹلی پتر ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں پتھراؤ کے واقعے کے بعد وہاں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
Published: undefined
پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن نے بتایا کہ دیر رات اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے ان سے امن برقرار رکھنے اور امتحان دینے جانے والے دیگر امیدواروں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی تھی، لیکن کچھ شرپسند عناصر مسلسل ایمرجنسی چین کھینچ رہے تھے اور مزید خصوصی ٹرینوں کا مطالبہ کر رہے تھے، جبکہ پہلے سے ہی 2 اسپیشل ٹرینیں دستیاب تھیں۔ ڈی ایم نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ان امیدواروں کو بھی روکنے کی کوشش کی جو امتحان دینے جانا چاہتے تھے۔ اسی وجہ سے پولیس کو ہلکا سا طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اب صورتحال پوری طرح معمول پر ہے، تمام مقررہ ٹرینیں روانہ ہو چکی ہیں اور ریلوے کی آمد و رفت بھی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined