قومی خبریں

غازی آباد میں 23 اپریل کو پاسپورٹ لوک عدالت، زیر التوا درخواستوں کے فوری حل کا موقع

غازی آباد میں 23 اپریل کو پاسپورٹ لوک عدالت میں زیر التوا درخواستوں کو حل کیا جائے گا۔ صرف 50 درخواستیں نمٹائی جائیں گی، اس لیے امیدواروں کو مکمل دستاویزات کے ساتھ وقت پر پہنچنے کی ہدایت دی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>پاسپورٹ کی علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

پاسپورٹ کی علامتی تصویر / اے آئی

 

غازی آباد میں پاسپورٹ سے متعلق زیر التوا معاملات کے حل کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے علاقائی پاسپورٹ دفتر نے 23 اپریل کو پاسپورٹ لوک عدالت منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان شہریوں کو فوری راحت فراہم کرنا ہے، جن کی درخواستیں مختلف وجوہات کی بنا پر طویل عرصے سے زیر التوا ہیں اور انہیں بروقت سہولت حاصل نہیں ہو پا رہی۔

Published: undefined

یہ خصوصی لوک عدالت 23 اپریل کو شام 3 بجے سے 5 بجے تک علاقائی پاسپورٹ دفتر غازی آباد کے کمرہ نمبر 320 میں منعقد ہوگی۔ اس موقع پر علاقائی پاسپورٹ افسر خود موجود رہیں گے اور درخواست گزاروں سے براہ راست ملاقات کرکے ان کے مسائل سنیں گے۔ حکام کے مطابق کوشش کی جائے گی کہ موقع پر ہی ممکنہ حد تک مسائل کا حل نکالا جائے تاکہ لوگوں کو مزید انتظار نہ کرنا پڑے۔

Published: undefined

یہ اقدام وزارت خارجہ کی ہدایات کے مطابق کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاسپورٹ خدمات میں شفافیت اور رفتار کو بہتر بنانا ہے۔ خاص طور پر ایسے معاملات کو ترجیح دی جائے گی جو طویل عرصے سے زیر التوا ہیں یا جن میں تکنیکی یا دستاویزی خامیوں کے باعث تاخیر ہو رہی ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف مسائل کا فوری حل ممکن ہوگا بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔

Published: undefined

البتہ محدود وقت کے پیش نظر اس لوک عدالت میں صرف 50 درخواستوں کو ہی نمٹایا جائے گا۔ اسی لیے حکام نے واضح کیا ہے کہ جو لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ وقت سے پہلے پہنچیں تاکہ ان کی درخواست پر غور کیا جا سکے۔ درخواست گزاروں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام ضروری کاغذات کی اصل اور نقول ساتھ لائیں تاکہ کارروائی کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

یہ لوک عدالت ان افراد کے لیے ایک سنہری موقع ہے جو اپنے پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے حل کے منتظر ہیں۔ اگر اس عمل کو باقاعدگی سے جاری رکھا جائے تو پاسپورٹ خدمات میں بہتری کے ساتھ ساتھ عوامی شکایات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined