قومی خبریں

پارلیمنٹ میں بحث بے معنی، دھرمیندر پردھان فوری استعفیٰ دیں: جے رام رمیش

جے رام رمیش نے این ٹی اے پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی میں بحث بے معنی ہے اور انہیں فوری مستعفی ہونا چاہیے

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے این ٹی اے (نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی) کے پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر اس وقت تک کوئی بھی بحث بے معنی ہوگی جب تک دھرمیندر پردھان اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں 2015 کے مانسون اجلاس اور موجودہ مانسون اجلاس کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ وقت گزرتا رہتا ہے، لیکن کچھ چیزیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق 2015 میں مدھیہ پردیش کے ویاپم امتحانی اور تقرری گھوٹالے کی وجہ سے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس تقریباً مکمل طور پر متاثر ہوا تھا، جبکہ 2026 کا مانسون اجلاس این ٹی اے کے پرچہ لیک اسکینڈل کی وجہ سے ہنگاموں کی زد میں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویپم گھوٹالے کے دوران ذمہ دار شخصیت کو تحفظ فراہم کیا گیا اور بعد میں مرکزی حکومت میں دو اہم وزارتیں بھی سونپی گئیں، جبکہ این ٹی اے پرچہ لیک معاملے کے دوران وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری سنبھالنے والے دھرمیندر پردھان کو بھی وزیر اعظم کی جانب سے تحفظ حاصل ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کی موجودگی میں پارلیمنٹ میں ہونے والی کسی بھی بحث کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ ان کے بقول، ملک بھر میں عوامی جذبات اور مطالبہ بالکل واضح ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔

قبل ازیں، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ یو جی پرچہ لیک معاملے پر بحث کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن نے مسلسل چوتھے روز راجیہ سبھا میں شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی تین مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے ابتدائی چار دن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تعطل کی نذر ہو چکے ہیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ این ٹی اے کے مبینہ پرچہ لیک معاملے پر تفصیلی بحث کرائی جائے اور دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہوں، جبکہ حکومت کی جانب سے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا گیا ہے۔

جب سہ پہر تین بجے راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو نائب چیئرمین ہری ونش نے قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کو اظہارِ خیال کی اجازت دی۔ کھرگے نے ایک تحریری بیان پڑھنا شروع کیا، تاہم پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف نہ تو ایوان کی کارروائی چلانے کی بات کر رہے ہیں اور نہ ہی بحث کی، بلکہ وہ ایک تحریری بیان پڑھ کر بحث کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اس کے بعد اپوزیشن اور حکمراں اتحاد کے ارکان کے درمیان نعرے بازی شروع ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور نائب چیئرمین نے کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی۔ اپوزیشن جماعتیں این ٹی اے پرچہ لیک معاملے پر وزیر تعلیم کے استعفے اور پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے مطالبے پر قائم ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔