
اودبلاؤ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
لکھنؤ: وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) کی ایک ٹیم نے لکھنؤ-سیتا پور سرحد پر 929 کلومیٹر طویل گومتی ندی میں پہلی بار اودبلاؤ (اوٹر) کو دیکھنے کا دعوی کیا ہے۔ اتر پردیش میں اودبلاؤ عام طور پر پیلی بھیت ٹائیگر ریزرو، ددھوا ٹائیگر ریزرو، کتارنیا گھاٹ، حیدر پور ویٹ لینڈ اور ہستناپور پور وائلڈ لائف سینکچری میں پائے جاتے ہیں۔
ڈبلیو آئی آئی کے ماہر وپول موریہ کے مطابق ٹیم نے اودبلاؤ کو اس وقت دیکھا جب وہ ماحولیاتی جائزہ لے رہے تھے، جوکہ مرکزی وزارت جل شکتی کے قومی مشن برائے صاف گنگا کے فنڈ سے چلنے والے پروجیکٹ کا حصہ ہے۔
ٹیم کی قیادت کرنے والے موریہ نے کہا ’’گومتی میں ماضی میں کبھی بھی اودبلاؤ نظر آنے کا ریکارڈ نہیں ہے اور ہم اسے سیتا پور ضلع کی حدود میں تلاش کرنے پر پرجوش ہیں۔ گومتی میں اوودبلاؤوں کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریا کا کچھ حصہ اب بھی رہنے کے قابل ہے۔‘‘
سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 150 سے زیادہ دیہاتوں اور 30 صنعتوں کے 68 نالے روزانہ 865 ایم ایل ڈی سیوریج براہ راست دریا میں چھوڑتے ہیں۔ ان 30 صنعتوں میں سات چینی، دو مذبح خانے، تین ٹیکسٹائل یا یارن رنگنے کی صنعتیں، پانچ انجینئرنگ انڈسٹریز، تین ڈسٹلری یونٹس اور ڈیری، کھاد، کاغذ، خوراک اور مشروبات کی 10 صنعتیں شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اودبلاؤ مچھلی، جھینگے، کرے فش، کیکڑے، کیڑے مکوڑے اور فقاری جانور جیسے مینڈک، پرندے اور چوہوں کا شکار کرتا ہے۔ وہ دریاؤں کے کنارے پتھریلے حصے پسند کرتے ہیں کیونکہ یہاں انہیں گڑھے بنانے اور آرام کرنے کے لیے جگہ مل جاتی ہے۔
موریہ اپنی ٹیم کے رکن سمیت نوٹیال کے ساتھ صاف گنگا پروجیکٹ کے لیے گنگا ندی کے طاس میں آبی انواع کے تحفظ اور ماحولیاتی نظام کی خدمات کی دیکھ بھال کے لیے منصوبہ بندی اور انتظام کے تحت دریائے گومتی پر کام کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔