
ویڈیو گریب
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں ایوان کے اندر اور باہر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ جمعہ کے روز بھی کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے استعفے کا مطالبہ اٹھایا۔
اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص کانگریس اور چند دیگر پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ نے ایپسٹین فائل سے جڑے معاملے کو لے کر پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دروازہ کے قریب جمع ہو کر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ’ہردیپ پوری استعفیٰ دو‘ کے نعرے لگائے اور اپنے ہاتھوں میں ایک بڑا بینر اٹھا رکھا تھا جس پر جیفری ایپسٹین اور ہردیپ سنگھ پوری کی تصاویر آویزاں تھیں۔
Published: undefined
اپوزیشن کا الزام ہے کہ وزیر ہردیپ سنگھ پوری کا نام امریکی شہری جیفری ایپسٹین سے جڑا ہوا ہے۔ کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ وزیر نے مبینہ طور پر امریکہ کے ایک ایسے شخص سے کئی مرتبہ ملاقات کی جس پر کمسن بچیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات عائد تھے، جو ملک کے لیے شرمناک بات ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
Published: undefined
پارلیمنٹ کے احاطے میں ہوئے احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی۔ پہلے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کی گئی، تاہم ہنگامہ جاری رہنے کے سبب اسے 9 مارچ تک، یعنی بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
حکومت کی جانب سے اس معاملے پر تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ اس موضوع کو آئندہ اجلاس میں بھی شدت کے ساتھ اٹھائے گی۔ بجٹ اجلاس کے پہلے حصے میں جاری اس تنازع نے پارلیمانی کارروائی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined