
آپریشن سندور
ہندوستان بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز کو دیکھتے ہوئے پوری طرح مستعد ہے۔ وہ اپنی سرحدوں کی سیکورٹی سے متعلق بھی ہمہ وقت الرٹ رہتا ہے۔ ایسے حالات میں جنگ کے میدان میں دشمن کو مؤثر اور سخت جواب دینے کے لیے ہندوستانی فوج کس حد تک تیار ہے، اس کی جھلک حال ہی میں پٹھان کوٹ کینٹ میں منعقدہ ’آپریشن سندور‘ کی نمائش کے دوران دیکھنے کو ملی۔ اس نمائش کے ذریعہ فوج نے جدید ترین اسلحوں، میزائل سسٹمز اور ایئر ڈیفنس کی طاقت کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ ویسٹرن کمانڈ کے لیفٹیننٹ جنرل نے اس موقعو پر کہا کہ ہندوستان کسی کے دباؤ میں آنے والا نہیں ہے اور اگر آپریشن سندور 2.0 ہوا تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگا۔
Published: undefined
پاکستان کی جانب سے ایٹمی حملہ کی دھمکی کے بارے میں ویسٹرن کمانڈ کے لیفٹیننٹ جنرل منوج کٹیار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے اس طرح کی دھمکی دے کر صرف دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی، یہ ایک طرح کا بلف تھا، اور اس کا مقصد ہندوستان کو کارروائی سے روکنا تھا۔ لیکن ہندوستان کسی بھی ایسے دباؤ میں آنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے آپریشن سندور کی کامیابی پر کہا کہ اس کے تحت ہندوستان نے پاکستان میں موجود کئی دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ جوابی کارروائی میں پاکستان نے ہم پر حملہ کیا، جس کے بعد ہندوستان نے ان کے ایئر بیس اور فوجی ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا۔ تقریباً 88 گھنٹے تک جاری رہنے والے تصادم کے بعد پاکستان نے ڈی جی ایم او سطح پر جنگ بندی کی اپیل کی۔ 7 مئی کو ہندوستان کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کی گئی تھی، جسے پہلے پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔
Published: undefined
منوج کٹیار نے آپریشن سندور 2.0 کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپریشن سندور 2.0 ہوتا ہے تو وہ پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔ کارروائی کی گہرائی اور شدت اس وقت کی حکمت عملی پر منحصر کرے گی۔ ڈرونز ہماری اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہوں گے۔ ویسٹرن کمانڈ میں ڈرون کی تیاری اور تکنیکی تیاریوں پر خصوصی کام کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ وہاں دہشت گردی کے اعداد و شمار پہلے کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں، تاہم پاکستان کی جانب سے امن کو خراب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
Published: undefined
پٹھان کوٹ میں نمائش کے دوران سب سے زیادہ سرخیوں میں برہموس میزائل رہا۔ یہ سپرسونک کروز میزائل زمین سے زمین پر نہایت کامیاب حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فوج کے مطابق اس بے مثال درستگی اور طاقت کے زور پر دشمن کے کئی ایئربیس اور اسٹریٹجک ٹھکانوں کو بہت کم وقت میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کی رفتار، درستگی اور کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت اسے روکنا نہایت مشکل بنا دیتی ہے۔
Published: undefined
فضائی خطرات سے نمٹنے میں آکاش میزائل سسٹم کا اہم کردار رہا ہے۔ یہ سطح سے فضا میں مار کرنے والا میزائل نظام ہے، جس نے دشمن کی جانب سے داغی گئی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت دکھائی۔ ہندوستانی فوج کے مطابق اس نظام کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ کسی بھی ہدف کو اپنے ٹھکانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی انٹرسیپٹ کر لیتا ہے۔ دوسری طرف جدید جنگ میں ڈرون ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ نمائش کے دوران یہ بھی دکھایا گیا کہ اگر دشمن ڈرون کے ذریعہ فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو ملٹی لیئر ایئر ڈیفنس سسٹم، رڈار نیٹورک اور فوری رد عمل یونٹس کس طرح انہیں ٹریک کر کے ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کے ذریعہ ڈرون کی کمیونکیشن لنک کو جام کرنے کی تکنیک بھی پیش کی گئی۔
Published: undefined
حال ہی میں فوج کے بیڑے میں شامل رودر بریگیڈ اور بھیرو بٹالین کی خصوصی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔ ان یونٹس کو تیز، درست اور اعلیٰ خطرات والے آپریشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جدید اسلحوں، نائٹ ویژن سسٹمز اور ایڈوانس کمیونکیشن سے مزین یہ یونٹس کسی بھی چیلنجنگ صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس خصوصی نمائش کا مقصد بالکل واضح تھا۔ زمینی، فضائی اور تکنیکی صلاحیتوں کے باہمی تال میل کے ساتھ ہندوستانی فوج کسی بھی روایتی یا ہائبرڈ خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ میزائلوں سے لے کر ڈرون ڈیفنس اور اسپیشل فورس آپریشنز تک، ہر سطح پر مربوط حکمت عملی ہی اصل طاقت ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined