آئی اے این ایس
جموں، سری نگر: پاکستان کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کے بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ زمینی راستے سے جموں روانہ ہو گئے تاکہ وہ خود حالات کا جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا، ’’گزشتہ رات جموں شہر اور دیگر علاقوں میں پاکستانی ڈرون کے ناکام حملے کے بعد میں صورتحال کا جائزہ لینے جموں جا رہا ہوں۔‘‘
Published: undefined
جمعرات کی رات پاکستانی ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے جموں، اودھم پور اور پٹھانکوٹ سمیت مختلف سرحدی علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم ہندوستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام حملے ناکام بنا دیے۔
آئی ڈی ایس (انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف) نے ایکس پر بتایا کہ ’’پاکستان نے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، مگر ہندوستانی مسلح افواج نے مکمل چوکسی کے ساتھ تمام خطرات کو ایس او پیز (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) کے مطابق ناکام بنایا۔‘‘
Published: undefined
ذرائع کے مطابق، جموں ایئرپورٹ کے قریب متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ حملوں میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ جموں کے قریبی علاقوں میں آٹھ میزائلوں کو بھی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں ریاسی ضلع میں واقع ماتا ویشنو دیوی مندر میں عارضی طور پر بجلی منقطع ہوئی، جب کہ سری نگر کے کچھ علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
ان حملوں کے پیشِ نظر پنجاب، جموں و کشمیر اور راجستھان کے متعدد علاقوں میں ایمرجنسی پروٹوکول نافذ کیے گئے۔ سائرن بجائے گئے اور عوام کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت دی گئی۔ حتیٰ کہ دھرمشالہ میں جاری آئی پی ایل 2025 کا میچ — جو پنجاب کنگز اور دہلی کیپیٹلز کے درمیان ہو رہا تھا — احتیاطی طور پر منسوخ کر دیا گیا۔
Published: undefined
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے ڈائریکٹر جنرلز سے رابطہ کیا اور سرحدی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور ڈی جی پولیس نلِن پربھات سے بھی بات کی۔ اطلاعات ہیں کہ ہندوستان نے ان حملوں کے جواب میں پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی بھی کی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined