قومی خبریں

’20-30 کروڑ روپے اور وزارتی عہدہ کی ہوئی پیشکش‘، عمر عبداللہ نے بی جے پی پر پارٹی توڑنے کا سنگین الزام کیا عائد

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی نے ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کی کوشش کی۔ بی جے پی کے ایک لیڈر اور سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے ان سے رابطہ کیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>عمر عبداللہ / یو این آئی</p></div>

عمر عبداللہ / یو این آئی

 

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج بی جے پی پر آج انتہائی سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے ایک رکن اسمبلی کو 30-20 کروڑ روپے، وزارتی عہدہ اور ریاست کا درجہ بحال کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ عمر کے مطابق یہ پیشکش پارٹی چھوڑنے کے لیے دیا گیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی نے ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی، لیکن نیشنل کانفرنس کا ایک بھی رکن اسمبلی ان کے ساتھ نہیں گیا۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر اس سلسلے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیے جانے میں تاخیر کے لیے مرکز کی مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ بی جے پی نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیانات عمر عبداللہ نے سری نگر کے حضرت بل میں منعقدہ کارکنان کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جموں سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے ایک رکن اسمبلی نے انھیں بتایا تھا کہ بی جے پی سے منسلک ایک لیڈر اور سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ عمر عبداللہ کے مطابق ’’رکن اسمبلی کو پارٹی بدلنے کے بدلے 30-20 کروڑ روپے، وزارتی عہدہ اور جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرانے کا بھروسہ دیا گیا تھا۔‘‘

عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان کوششوں کے باوجود نیشنل کانفرنس کا کوئی رکن اسمبلی نہیں ٹوٹا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر مستقبل میں ان کے اراکین اسمبلی کو 100 کروڑ روپے کی بھی پیشکش کی جائے، تب بھی کوئی پارٹی چھوڑنے کو تیار نہیں ہوگا۔ انھوں نے پورے عزم کے ساتھ کہا کہ ان کے سبھی اراکین اسمبلی پارٹی کے تئیں اپنی وفاداری اور اپنے فیصلے پر پوری طرح قائم ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔