
تصویر این ایس یو آئی
نئی دہلی: وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے مناسب اور سستے ہاسٹل کی فراہمی، ملک بھر میں پیپر لیک کے واقعات پر روک لگانے اور ستیہ نکیتن بلڈنگ حادثے میں جواب دہی یقینی بنانے کے مطالبات کو لے کر آج ’تالی تھالی مارچ‘ نکالا۔
این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں یہ احتجاج تنظیم کے ہیڈکوارٹر، 5 رائسینا روڈ، نئی دہلی سے شروع ہوا۔ این ایس یو آئی ہیڈکوارٹر کے باہر تقریباً 100 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے بیریکیڈنگ کیے جانے اور مظاہرین کی نقل و حرکت محدود کیے جانے کے باعث مارچ کو جنتر منتر کی جانب آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا، ’’وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر ہم انہیں طویل عمر اور صحت مند زندگی کی مبارکباد دیتے ہیں، لیکن وزیرِ اعظم کے سامنے ہمارا پیغام بھی بالکل واضح ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کو ہاسٹل چاہیے۔ ملک بھر میں پیپر لیک کے واقعات بند ہونے چاہئیں اور طلبہ کو محفوظ اور شفاف تعلیمی نظام ملنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایک جانب ملک بھر میں سالگرہ کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب دہلی یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ مہنگے کرایوں اور ناکافی ہاسٹل سہولیات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مناسب تعداد میں ہاسٹل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے طلبہ کو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کرائے پر خرچ کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
این ایس یو آئی نے دہلی حکومت کی جانب سے 10 ہزار طلبہ کے لیے ہاسٹل بنانے کے حالیہ اعلان پر بھی سوال اٹھائے۔ تنظیم نے وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ ہاسٹلوں کی تعمیر اور آپریشن کے حوالے سے فوری طور پر ایک واضح اور شفاف معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) جاری کیا جائے۔ این ایس یو آئی کے مطابق اس ایس او پی میں عمل درآمد کا طریقہ، ٹائم لائن، اہلیت کے معیار، الاٹمنٹ کا طریقۂ کار اور نگرانی کے نظام سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔
ونود جاکھڑ نے کہا کہ صرف اعلانات سے ہاسٹل کا بحران ختم نہیں ہوگا۔ دہلی حکومت کو واضح ایس او پی اور مقررہ مدت کے مطابق عمل درآمد کے منصوبے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ طلبہ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہاسٹل کب تک تعمیر ہوں گے، اس کا فائدہ کن طلبہ کو ملے گا اور الاٹمنٹ کے عمل میں شفافیت کس طرح یقینی بنائی جائے گی۔
ستیہ نکیتن بلڈنگ حادثے کا ذکر کرتے ہوئے جاکھڑ نے کہا کہ ستیہ نکیتن کے سانحے کو فراموش یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لاپروائی کے ذمہ دار افراد کی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔ طلبہ کی حفاظت ہر متعلقہ اتھارٹی کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور طلبہ و رہائشیوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
این ایس یو آئی نے کہا کہ طلبہ کے جائز مطالبات اٹھانے والے پُرامن مظاہرین کے خلاف بڑی تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے مسائل کے تئیں حساسیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ جمہوریت میں پُرامن احتجاج طلبہ سے متعلق مسائل کو اٹھانے کا ایک جائز ذریعہ ہے۔
این ایس یو آئی نے فوری طور پر درج ذیل مطالبات پر کارروائی کا مطالبہ کیا:
دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے مناسب تعداد میں سستے اور قابلِ رسائی ہاسٹلوں کا انتظام کیا جائے۔
مجوزہ 10 ہزار بیڈ پر مشتمل ہاسٹل منصوبے کے لیے فوری طور پر واضح ایس او پی جاری کیا جائے۔
ہاسٹل سہولیات کے لیے مقررہ مدت کے مطابق عمل درآمد کا منصوبہ اور شفاف الاٹمنٹ کا عمل یقینی بنایا جائے۔
ملک بھر میں پیپر لیک اور امتحانات سے متعلق بے ضابطگیوں پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔
ستیہ نکیتن بلڈنگ حادثے کی شفاف اور جواب دہ تحقیقات کرائی جائیں۔
لاپروائی اور طلبہ کی حفاظت سے سمجھوتہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
منصفانہ اور شفاف امتحانات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اصلاحات نافذ کی جائیں۔
این ایس یو آئی نے کہا کہ جب تک طلبہ کے مسائل کا ٹھوس حل نہیں نکالا جاتا، تنظیم جمہوری اور پُرامن ذرائع سے طلبہ کے مفادات کی آواز اٹھاتی رہے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔