
دہلی ہائی کورٹ نے برسرروزگار خواتین کے حق میں ایک بہت اہم اور تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اب پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے والی خاتون ٹیچر بھی سرکاری اسکولوں کی طرح ’چائلڈ کیئر لیو‘ پانے کی حقدار ہوں گی۔ یہ فیصلہ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیویندر کمار اور جسٹس تیجس کاریا کی ڈویژن بنچ نے سنایا۔ ڈویژن بنچ نے اس معاملے میں سنگل جج بنچ کے پرانے فیصلے کو پوری طورح پلٹ دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے دہلی کے ہزاروں پرائیویٹ اسکولوں میں کام کرنے والی خاتون ٹیچرس کو بڑی راحت ملی ہے۔
Published: undefined
عدالت نے کہا کہ خاتون ٹیچرس کو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے چھٹی ملنا ان کے مساوات کے بنیادی حق کا حصہ ہے۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ کوئی بھی تسلیم شدہ پرائیویٹ ادارہ اپنے خاتون ملازمین کو ان کے بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم یا بیماری سے متعلق ان ضروری چھٹیوں سے محروم نہیں کر سکتا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کی بنیاد ’دہلی ایجوکیشن رولز‘ کو بنایا ہے۔ رول 111 کے تحت یہ التزام ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کے اسٹاف کو بھی سرکاری اسٹاف کی طرح ہی چھٹیوں کی سہولیات ملنی چاہئیں۔ اس قانون کے تحت دونوں جگہ کے ملازمین میں کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔
Published: undefined
سنٹرل سول سروسز (سی سی ایس) لیور رولز کے مطابق کوئی بھی خاتون ملازمہ اپنی پوری ملازمت کے دوران مجموعی طور پر 730 دن یا پورے 2 سال کی ’چائلڈ کیئر لیو‘ لے سکتی ہیں۔ حالانکہ اس کے لیے کچھ ضروری شرائط طے کی گئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ چائلڈ کیئر لیو خاتون ملازمہ کو اپنے پہلے 2 بچوں کی پرورش کے لیے ہی ملے گی۔ بچے کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اس کے امتحانات، تعلیم یا بیماری کے وقت بھی یہ چھٹی لی جا سکتی ہے۔ ایک بار میں یہ چھٹی کم از کم 15 دنوں کے لیے ہونی چاہیے، اس سے کم دنوں کے لیے یہ نافذ نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی کوئی بھی خاتون ملازمہ ایک کیلنڈر سال میں اس کیٹیگری کے تحت 3 بار سے زیادہ چھٹی نہیں لے سکتی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined