قومی خبریں

’نوجوانوں سے ملنے کا وقت نہیں، غداروں سے ملاقات کے لیے وقت‘، باغی اراکین پارلیمنٹ سے پی ایم مودی کی ملاقات پر ادھو برہم

ملک کی موجودہ صورتحال کو ادھو ٹھاکرے نے ’طوفان سے پہلے کی خاموشی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مظاہروں نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ادھو ٹھاکرے، ویڈیو گریب</p></div>

ادھو ٹھاکرے، ویڈیو گریب

 

شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی چھوڑ کر ایکناتھ شندے والی شیوسینا میں شامل ہوئے اراکین پارلیمنٹ سے وزیر اعظم مودی کی ملاقات پر سوال اٹھایا۔ ادھو ٹھاکرے نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم کے پاس احتجاج کر رہے نوجوانوں سے ملنے کا وقت نہیں ہے، لیکن غداروں سے ملاقات کے لیے وقت ہے۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل نریندر مودی نے این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ناشتے پر میٹنگ کی تھی۔ اس کے بعد ایکناتھ شندے اور ان کی پارٹی کے 6 نومنتخب اراکین نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی تھی۔

ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے سوال کیا کہ کیا مودی اور شیوسینا (یو بی ٹی) چھوڑ نے والے 6 اراکین پارلیمنٹ کے درمیان ہونے والی ملاقات کا مقصد سپریم کورٹ کو ڈرانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شیوسینا (یو بی ٹی) کی قیادت والی پارٹی کی اس عرضی پر سماعت چل رہی ہے جس میں الیکشن کمیشن کے شندے گروپ کو اصلی شیوسینا ماننے کے فیصلے کو چیلنج دیا گیا ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کی بنیاد پر ہوگا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے پاس نوجوانوں سے ملنے کا وقت نہیں ہے، لیکن غداروں سے ملنے کا وقت ہے۔ غداروں کو یہ بھروسہ دیا جا رہا کہ وزیر اعظم ان کے ساتھ ہیں۔ کیا آپ سپریم کورٹ کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ وزیر اعظم اور پارٹی کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ٹھاکرے نے سوال کیا کہ ’’جب معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے تب غداروں سے ملنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے اٹھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کی عرضی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے اس فیصلے کو چیلنج کرتی ہے، جس میں 6 اراکین پارلیمنٹ کے حریف شیوسینا میں انضمام کو تسلیم کیا گیا تھا۔ دھو ٹھاکرے نے سوال کیا کہ ’’کیا وزیر اعظم  عدلیہ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یا مہارشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو دھمکا رہے ہیں؟‘‘

ملک کی موجودہ صورتحال کو ادھو ٹھاکرے نے ’طوفان سے پہلے کی خاموشی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مظاہروں نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا اس بات پر بحث کر رہی ہے کہ جین-زی نے حکومت کو گھٹنوں پر لا دیا۔ انہوں نے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس نسل کی حمایت کرنے کے بجائے کچھ مظاہرین کے ساتھ بے رحمی سے مار پیٹ کی گئی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اب پوری حکومت کو بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ 

شیوسینا (یو بی ٹی) سربراہ نے کورونا کے دوران فیس بک لائیو کرنے پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم پر طنز کسا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فیس بک لائیو کرنے پر تنقید کا سامنا کیا تھا، لیکن اب صورتحال اتنی خراب ہو گئی ہے کہ وزیر اعظم انسٹاگرام کے ذریعے حکومت چلا رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’وزیر اعظم ملک کے مستقبل یعنی نوجوانوں سے ملنا نہیں چاہتے۔‘‘ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی جمعرات کو جین-زی سے ہونے والی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ نوجوان ان کی باتیں سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔