
ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے مفرور کاروباری شخصیت وجے مالیہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر عدالت کی کارروائی سے بچ رہا ہو، وہ انصاف پر مبنی راحت کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر مالیہ ہندوستان واپس نہیں آتے تو ان کی عرضی پر سماعت ممکن نہیں ہوگی، تاہم منصفانہ اصولوں کے تحت انہیں اپنا موقف واضح کرنے کا ایک آخری موقع دیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
چیف جسٹس چندرشیکھر کی سربراہی والی بنچ وجے مالیہ کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں انہوں نے مفرور معاشی مجرم قانون، 2018 کی آئینی حیثیت اور خود کو مفرور قرار دیے جانے کی کارروائی کو چیلنج کیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ یہ درج کرنے کے حق میں ہے کہ عرضی گزار عدالت کے دائرہ اختیار سے بچ رہے ہیں، اس لیے وہ کسی بھی طرح کی راحت کے حقدار نہیں ٹھہرائے جا سکتے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے واپس آئیں، پھر قانون کے مطابق اپنی بات رکھیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ حالات کے پیش نظر عرضی فوری طور پر خارج کی جا سکتی تھی، لیکن شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملہ ملتوی کیا جا رہا ہے تاکہ وجے مالیہ یہ واضح کریں کہ آیا وہ وطن واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔ آئندہ سماعت اگلے ہفتے مقرر کی گئی ہے۔
Published: undefined
اس سے قبل وزارت خارجہ نے بھی اپنے موقف میں کہا تھا کہ حکومت معاشی جرائم میں ملوث افراد کو ہندوستان واپس لانے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق اس عمل میں کئی قانونی مراحل شامل ہیں، تاہم حکومت وجے مالیہ اور للت مودی جیسے افراد کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
لوک سبھا میں وزیر مملکت برائے مالیات پنکج چودھری نے بتایا کہ 31 اکتوبر 2025 تک پندرہ افراد کو مفرور معاشی مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ ان میں سے نو افراد پر سرکاری بینکوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر مالی دھوکہ دہی کے الزامات ہیں، جن سے 26,645 کروڑ روپے کا اصل نقصان ہوا، جب کہ سود سمیت رقم 31,437 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اب تک 19,187 کروڑ روپے کی وصولی کی جا چکی ہے۔
Published: undefined
وجے مالیہ اور للت مودی نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ وجے مالیہ نے حال ہی میں حکومت اور سرکاری بینکوں سے سوال اٹھایا تھا کہ وصول کی گئی رقم کے بارے میں مختلف بیانات کیوں سامنے آ رہے ہیں، اور انہوں نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ریٹائرڈ جج کی تقرری کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined