قومی خبریں

مدھیہ پردیش میں 30 قبائلی بچوں کی ہلاکت سے متعلق خبر بے حد فکر انگیز اور تکلیف دہ: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا کہ مختلف بیماریوں کے ساتھ پینے کے پانی، تغذیہ اور وقت پر علاج جیسی بنیادی سہولیات کی کمی بچوں کی جان لے رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں بیگا قبائلی طبقہ ان دنوں خوف کے سایہ میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس کی وجہ ہے ان کے بچوں کی لگاتار ہو رہیں اموات۔ اب تک تقریباً 30 بیگا قبائلی بچوں کی موت مختلف بیماریوں کے سبب ہو چکی ہیں، جس پر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے شدید فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بالاگھاٹ، مدھیہ پردیش میں 30 قبائلی بچوں کی موت کی خبر بے حد فکر انگیز اور تکلیف دہ ہے۔‘‘

یہ تبصرہ کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ انھوں نے ملیریا جیسی بیماریوں سے بیگا قبائلی بچوں کی موت پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس خطرناک بیماری کے ساتھ پینے کے پانی، تغذیہ اور وقت پر علاج جیسی بنیادی سہولیات کی کمی بچوں کی جان لے رہی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔ وزیر اعلیٰ خود اس کا حل نکالیں اور علاقہ میں فوری جانچ، علاج و راحتی سامان دستیاب کرائیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’بچوں کی زندگی سے سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘‘

اس سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ راہل گاندھی نے ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ کی ایک رپورٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا ہے، جس پر عنوان ہے ’بالاگھاٹ: بیگا بچوں کی موت کا سلسلہ جاری، 10 سال کے گجیندر کی موت؛ مہلوکین کی تعداد 30 ہوئی‘۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قبائل اکثریتی علاقہ کے بیگا قبائلی بچوں کی ہو رہیں اموات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور کئی وزراء بھی بالاگھاٹ کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن محکمہ صحت حالات پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔

بچوں کی موت سے بالاگھاٹ میں خوف کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ موت کا تازہ معاملہ بالاگھاٹ کے بیہر-برسا علاقہ سے سامنے آیا ہے، جہاں 10 سالہ بیگا قبائلی گجیندر مرکام کی موت ہو گئی ہے۔ ابتدائی جانکاری میں اسے ملیریا سے متاثر بتایا گیا ہے، حالانکہ موت کی حقیقی وجہ سے متعلق آفیشیل تصدیق محکمہ صحت کی جانچ اور میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ہوگی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالات تشویش ناک ہونے کے باوجود پینے کے پانی کا مسئلہ برقرار ہے اور وقت پر علاج بھی دستیاب نہیں۔ بیداری کی کمی کے سبب بھی حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔