قومی خبریں

جاپان کے بعد اب نیپال میں بھی ہندوستانی آم پر پابندی! سوشل میڈیا کے دعووں پر مرکزی حکومت کا بیان آیا سامنے

نیپال نے حال ہی میں اپنے کچھ درآمدی ضوابط میں ترمیم کی ہے، جس میں پھلوں اور دیگر زرعی مصنوعات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ’ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ‘ کو ضروری بنایا گیا ہے۔

آم، تصویر آئی اے این ایس
آم، تصویر آئی اے این ایس  

جاپان کے بعد کیا سچ میں نیپال نے بھی ہندوستانی آموں کی در آمد پر پابندی عائد کر دی ہے؟ سوشل میڈیا اور کئی میڈیا رپورٹس میں کئے جا رہے اس طرح کے دعووں کے درمیان مرکزی حکومت کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ نیپال میں ہندوستانی آموں پر پابندی کی خبریں پوری طرح سے گمراہ کن اور غلط ہیں۔ حکومت نے کہا کہ نیپال کو ہونے والی ہندوستانی آموں کی برآمد بغیر کسی رکاوٹ کے لگاتار جاری ہے۔

Published: undefined

مرکزی حکومت نے گزشتہ روز ہندوستان کے آم کی درآمد پر نیپال میں روک لگائے جانے سے متعلق کچھ میڈیا رپورٹس کو ’غلط اور گمراہ کن‘ بتاتے ہوئے خارج کر دیا۔ وزارت زراعت و کسان بہبود نے کہا کہ نیپال کے پلانٹ کوارنٹین اور کیڑے مار ادویات کے انتظامی مرکز نے خود ہی 10 جون کو یہ واضح کیا کہ ہندوستانی آموں پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔

Published: undefined

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’’کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیپال نے ہندوستانی آموں کی درآمد پر روک لگا دی ہے، جو کہ پوری طرح غلط اور گمراہ کن ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وزارت نے کہا کہ ’’موجودہ ضوابط کے تحت پلانٹ کی صحت سے متعلق شرائط پر عمل کرنے کی صورت میں درآمد کی اجازت برقرار ہے۔ ان شرائط کے اصولوں کی تعمیل کرنے پر درآمد کی اجازت اور ریلیز آرڈر جاری کیے جا رہے ہیں۔‘‘ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جنوری سے اب تک ہندوستان نے نیپال کو 2005 ٹن آم کی 149 شپ برآمد کی ہے جبکہ جون میں اب تک 266 ٹن آم کی 18 شپس بھیجی جا چکی ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ نیپال نے حال ہی میں اپنے کچھ درآمدی ضوابط میں ترمیم کی ہے، جس میں پھلوں اور دیگر زرعی مصنوعات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ’ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ‘ کو ضروری بنایا گیا ہے۔ اس پر ہندوستان نے کہا کہ وہ نئے معیارات کے تحت آم کی برآمد کو آسان بنا رہا ہے۔ حالانکہ ہندوستان نے اس پر نیپال سے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پیشگی مشاورت کے بغیر پلانٹ کی صحت کے اقدامات نافذ کر دیئے گئے۔ ہندوستان ڈبلیو ٹی او کے سینیٹری اور پلانٹ ہیلتھ اسٹینڈرڈز معاہدے اور بین الاقوامی پلانٹ پروٹیکشن کنونشن کے مسودے کے تحت دو طرفہ سطح پر اس معاملے کو اٹھا رہا ہے۔ وزارت نے کاروباریوں اور اسٹیک ہولڈروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف سرکاری اطلاعات پر بھروسہ کریں اور آم کی درآمد پر کسی بھی طرح کی پابندی سے متعلق غیر مصدقہ خبروں پر دھیان نہ دیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined