
علامتی تصویر / اے آئی
رام مندر نذرانہ چوری معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ ملزمین سے پوچھ تاچھ کے دوران نئے نئے انکشافات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی افسران کو رام مندر کے نام پر بنائی گئی پرانی چندہ رسید بر آمد ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پوچھ تاچھ میں ملزمین نے قبول کیا ہے کہ وہ صرف نذرانہ ہی چوری نہیں کرتے تھے، بلکہ فرضی رسید کاٹ کر عقیدت مندوں سے پیسے بھی وصول کرتے تھے۔ ملزمین کے پاس سے رام مندر جنم بھومی تیرتھ علاقے کی پرانی رسیدیں ملی ہیں۔ ابتدائی دور میں ٹنو یادو، لو کش، کرونیش، انوکلپ سمیت دیگر گرفتار ملزمین عقیدت مندوں سے رسید کے ذریعہ وصولی کیا کرتے تھے تاکہ کسی کو شک نا ہو۔ رسید میں رام جنم بھومی کا لوگو بھی چھپوایا گیا تھا۔ یہ رسید بالکل اصل رسید جیسی نظر آتی ہے۔
ذرائع کے مطابق آن لائن رسید نظام کے نفاذ کے بعد ملزمین نے ان کاغذی رسیدوں کا استعمال بند کر دیا۔ آن لائن رسید نظام کے نافذ ہونے کے بعد عقیدت مند ڈائریکٹ مندر کے بینک کھاتوں میں نذرانہ بھیجنے لگے یا مندر احاطے میں واقع کاؤنٹر پر سے رسید حاصل کرتے تھے۔ فی الحال ٹرسٹ کی میٹنگ میں پرانی چوری پکڑے جانے کے باوجود کارروائی نہیں ہونے پر چمپت رائے سوالات کے گھیرے میں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ رام مندر نذرانہ چوری کے معاملے کا انکشاف 5 جون کو ہوا تھا اور پولیس کی مدد سے مبینہ طور پر چوری کی رقم بھی برآمد کر لی گئی تھی۔ اس کے باوجود اُس وقت ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، جسے اب پورے تنازعہ کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
7 جون کے بعد سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے ذریعہ معاملے کو عام کیے جانے کے بعد یہ معاملہ سرخیوں میں آیا۔ ٹرسٹ نے یہ بھی میٹنگ میں ذکر کیا ہے کہ اگر اسی وقت مقدمہ درج کیا جاتا تو یہ تنازعہ اتنا نہیں بڑھتا۔ رام مندر تعمیر کے بعد چمپت رائے قومی سطح پر اہم کردار نبھا رہے تھے، لیکن حالیہ واقعات کے بعد ان کی شبیہ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عہدیداران کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹرسٹ نے کہا کہ نذرانے کی حفاظت ان کی ذمہ داری تھی۔ ٹرسٹ کی میٹنگ میں چمپت رائے کو تلاشی اور بر آمدگی کا اختیار کس نے دیا اور برآمدگی کے بعد ایف آئی آر کیوں درج نہیں کرائی گئی؟ ذرائع کے مطابق ٹرسٹ کی میٹنگ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ اگر ٹرسٹ کے عہدیداران نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کی تو ان کے خلاف بھی مجرمانہ ذمہ داری طے ہو سکتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر قومی آواز / وپن