
راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس
نیٹ-یوجی 2026 پیپر لیک معاملے میں تحقیقات کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اسی درمیان دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے معاملے کے 3 ملزمان ڈاکٹر منوج شرورے، تیجس ہرشد کمار شاہ اور منیش سنجے حولدار کو 15 جون تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ سی بی آئی کے مطالبے پر عدالت نے یہ حکم دیا۔ تینوں ملزمان کی کسٹڈی کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں آج عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
Published: undefined
سماعت کے دوران سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے عدالت سے تینوں ملزمان کو عدالتی حراست میں بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ ایجنسی کی دلیل سننے کے بعد راؤز ایونیو کورٹ نے تینوں کو 15 جون تک عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ نیٹ-یوجی 2026 پیپر لیک معاملے کی تحقیقات فی الحال جاری ہے اور ایجنسیاں پورے نیٹورک کی جانچ میں مصروف ہیں۔
Published: undefined
دوسری جانب نیٹ امتحان سے منسلک تنازعات پر سپریم کورٹ بھی مسلسل نظر بنائے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ کی جانب سے ایک عرضی داخل کی گئی تھی، جس میں 21 جون کو ہونے والے نیٹ-یوجی امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ (سی بی ٹی) موڈ میں کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت پیر کو جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس اروند کمار کی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ صرف اس مطالبہ پر زور دے رہے ہیں جس میں دوبارہ امتحان کو سی بی ٹی موڈ میں کرانے کی بات کی گئی ہے۔ حالانکہ عدالت نے اشارہ دیا کہ اس معاملے پر کوئی فوری حکم نہیں دیا جائے گا۔
Published: undefined
سپریم کورٹ نے کہا کہ پیپر لیک سے متعلق زیر التوا عرضیوں کے ساتھ ہی اس معاملے پر بھی جولائی میں سماعت کی جائے گی۔ جسٹس پی ایس نرسمہا نے کہا کہ عدالت پہلے بھی اسی طرح کی عرضیوں کو خارج کر چکی ہے۔ جب عرضی گزار کے وکیل نے دوبارہ سی بی ٹی سے متعلق مطالبے پر زور دیا تو بنچ نے کہا کہ وہ چھٹیوں کے بعد اس معاملے کو دیکھے گی۔ عدالت کے اس موقف کے بعد فی الحال 21 جون کو ہونے والے نیٹ-یوجی امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ کے طور پر کرانے کے مطالبے کو فوری راحت نہیں مل سکی ہے۔ اب اس معاملے پر حتمی فیصلے کے لیے جولائی میں ہونے والی سماعت پر نظر رہے گی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined