
علامتی تصویر / اے آئی
نیٹ (این ای ای ٹی) 2006 امتحان کے پیپر لیک کا معاملہ سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کی تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جانچ میں سامنے آیا ہے کہ امتحان سے قبل ہی طلبہ تک بڑی تعداد میں سوالات پہنچ گئے تھے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ کچھ طلبہ کو 720 نمبر کے امتحان میں تقریباً 600 نمبر کے سوالات پہلے سے پہنچ چکے تھے۔ اب ایس او جی اس پورے نیٹ ورک کی کڑیاں جوڑ کر ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
Published: undefined
ایس او جی کے مطابق یہ مبینہ ’گیس پیپر‘ یا ’کوشچن بینک‘ واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ ایپس کے ذریعے شیئر کیا گیا۔ متعدد دستاویزات میں ’فارورڈ مینی ٹائم‘ جیسی معلومات بھی ملی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ مواد بڑی تعداد میں طلباء تک پہنچا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گیس پیپر فوٹو کاپی کی دکان سے ملے تھے۔
Published: undefined
پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلباء کو ملنے والے دستاویزات میں فزکس، کیمسٹری اور بایولوجی کے 300 سے زیادہ سوالات شامل تھے۔ یہ سوال ہاتھ سے لکھے ہوئے بتائے جارہے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق ان میں سے تقریباً 150 سوالات سیدھے این ای ای ٹی کے امتحان میں پوچھے گئے تھے۔ چونکہ ہر سوال 4 نمبر کا ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر تقریباً 600 نمبر کے سوال میچ ہوگئے۔
Published: undefined
ذرائع کے مطابق یہ ’کوشچن بینک‘ سب سے پہلے چورو کے ایک نوجوان نے بھیجا تھا جو فی الحال کیرالہ کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی پڑھائی کررہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ وہاں سے یہ مواد سیکر کے ایک پی جی آپریٹر کے پاس پہنچا اور پھر طلباء میں تقسیم کیا گیا۔ بعد میں یہ بہت سے دوسرے طلباء تک وائرل ہو گیا۔
Published: undefined
ایس او جی اب پورے نیٹ ورک کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔ ایجنسی اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ مواد سب سے پہلے کس نے تیار کیا اور اسے پھیلانے میں کون کون لوگ شامل تھے۔ مشتبہ افراد کے سوشل میڈیا چیٹس، کال لاگز اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں جلد ہی اہم انکشافات ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined