
سوشل میڈیا
نصابی کتاب میں عدلیہ سے متعلق متنازع مواد پر ہنگامہ مچنے کے بعد این سی ای آر ٹی کے ذریعہ مانگی گئی معافی کو سپریم کورٹ نے قبول کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو ایک ڈومین ماہر کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت دی۔ معاملے میں بدھ کے روز سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا کہ حکومت تمام نصابی کتابوں کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر مشروط معافی مانگ لی گئی ہے۔ حکومت نے این سی ای آر ٹی کو تمام کلاسوں کی نصابی کتابوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے دوبارہ ابواب لکھے جانے پر بھی اعتراض کیا اور ہدایت کی کہ دوبارہ لکھے گئے ابواب اس وقت تک شائع نہ کیے جائیں جب تک ڈومین ایکسپرٹ کمیٹی ان کا جائزہ نہیں لے لیتی۔
Published: undefined
ہندوستان کے چیف جسٹس(سی جے آئی) سوریہ کانت نے کہا کہ اگر این سی ای آر ٹی آنے والی نسل کو عدلیہ کے بارے میں پڑھانا چاہتا ہے تو ہم مایوس ہیں کہ کمیٹی میں ایک بھی ماہر نہیں ہے۔ اگر باب کو دوبارہ لکھا بھی جاتا ہے تو ہم ہدایت دیتے ہیں کہ اسے اس وقت تک شائع نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ماہر کمیٹی اسے منظوری نہ دے دے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اس معاملے میں ایک ڈومین ماہر کمیٹی بنانے کا حکم دیا۔ یہ کمیٹی ایک سابق جج، ایک ماہر تعلیم اور ایک ممتاز قانونی ماہر پر مشتمل ہوگی۔ عدالت نے آئندہ ہفتے میں کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی۔
Published: undefined
سپریم کورٹ نے کلاس 8 کی نصابی کتاب کے متنازع مواد میں ان کے کردار کے بعد پروفیسر مائیکل ڈینو، ٹیچر سپرنا دیواکر اور قانونی محقق آلوک پرسنا کمار کو اسکول کا نصاب تیارکرنے میں کسی بھی کردار سے باہر کرنے کا حکم دیا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اگر وہ حکم میں ترمیم چاہتے ہیں تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے اس معاملے پر عدلیہ کو بدنام کرنے والے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کو بھی کہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined