
روہتک ضلع کے ہمایوں پور گاؤں سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ قومی پیرا پاور لفٹنگ کھلاڑی روہت نے دو دن تک موت سے جنگ لڑنے کے بعد آخرکار پنڈت بی ڈی شرما (پی جی آئی ایم ایس) اسپتال روہتک میں زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑ دیا۔ پاور لفٹر روہت پر بھیوانی میں شادی کی تقریب کے بعد باراتیوں نے حملہ کیا تھا جس میں انہیں سنگین چوٹیں آئی تھیں۔
Published: undefined
شائع خبروں کے مطابق جمعرات (27 نومبر) کی شام کو روہت اپنے دوست کے ساتھ اپنے رشتہ دار کے گھر شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے بھیوانی گیا تھا۔ شادی کی تقریب کے دوران باراتیوں کی مبینہ بدسلوکی پر اعتراض کرنے کی وجہ سے روہت کا ان سے جھگڑا ہوگیا تھا۔ شادی کی تقریب ختم ہونے کے بعد جب روہت اور اس کے دوست روہتک واپس آ رہے تھے تبھی راستے میں 15 سے 20 باراتیوں نے انہیں گھیر لیا۔ روہت کے دوست کے مطابق ملزمین نے روہت پر لوہے کی سلاخوں اور ہاکی اسٹکس سے وحشیانہ حملہ کردیا۔ دوست کسی طرح جان بچا کر وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔
Published: undefined
زخمی حالت میں روہت کو پہلے بھیوانی کے جنرل اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا لیکن حالت تشویشناک ہونے کے پیش نظر اسے پی جی آئی روہتک ریفر کر دیا گیا ۔ دو دن علاج کے باوجود روہت اسپتال میں دم توڑ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ روہت ملک کے مشہور پیرا پاور لفٹر تھے۔ ان کے چچا کپتان سنگھ نے بتایا کہ روہت دو بار جونیئر پیرا نیشنل ریکارڈ ہولڈر اور7 بار سینئر پیرا نیشنل چیمپئن رہے تھے۔ انہوں نے پیرا پاور لفٹنگ میں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی بھی کی۔
Published: undefined
بھیوانی پولیس کے تفتیشی افسر دیویندر کمار نے بتایا کہ روہت اپنے دوست کی بہن کی سسرال میں شادی کی تقریب میں گیا تھا۔ ورمالا رسم کے دوران باراتیوں کے ذریعہ کی گئی بدسلوکی کو لے کر کہا سنی ہوئی تھی۔ اس جھگڑے کے سبب شادی سے لوٹتے وقت باراتیوں نے راستے میں گھیر کر روہت اور اس کے دوست پر وحشیانہ حملہ کر کے انہیں بری طرح زخمی کر دیا۔
Published: undefined
کہا جارہا ہے کہ بارات ضلع بھیوانی کے تگڑانا گاؤں سے آئی تھی۔ پولیس نے معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 6 افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کی موت کی تحقیقات جاری ہیں اور جو بھی قصوروار پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined