
سونیا گاندھی اور ممتا بنرجی
مغربی بنگال کے نندی گرام اسمبلی حلقہ میں آئندہ 6 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہونا ہے، لیکن اس سے پہلے بڑی سیاسی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ممتا بنرجی گروپ کی امیدوار سنچیتا پردھان ڈے نے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری سے ملاقات کے بعد آج اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ اس کے بعد سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر کئی الزامات عائد کیے، اور ساتھ ہی اس سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
آج سنچیتا پردھان ڈے کی جانب سے امیدوار ی واپس لیے جانے کے بعد ممتا بنرجی نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ میڈیا کے سامنے انہوں نے اعلان کیا کہ ان کا گروپ نندی گرام میں کانگریس امیدوار ملن پردھان کی حمایت کرے گا اور اب اس سیٹ پر اپنا کوئی امیدوار نہیں اتارے گا۔ انہوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو انہیں فون کیا تھا۔ ممتا نے انڈیا اتحاد کے تئیں مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سب مل کر لڑیں گے۔‘‘ انہوں نے اروند کیجریوال کی پوسٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سب مل کر لڑائی لڑیں گے۔
واضح رہے کہ نندی گرام ضمنی انتخاب کے لیے ممتا بنرجی کی قیادت والے گروپ نے سنچیتا پردھان ڈے کو امیدوار بنایا تھا۔ 13 ستمبر کو ان کے نام کا اعلان کیا گیا تھا۔ بی جے پی نے نندی گرام سے ہسیرانی رتھ کو امیدوار بنایا ہے۔ وہ سویندو ادھیکاری کے سابق پرسنل اسسٹنٹ چندرناتھ رتھ کی والدہ ہیں۔ رتبرت گروپ کی جانب سے محمد احتشام الحق میدان میں ہیں۔ کانگریس نے ملن پردھان کو ٹکٹ دیا ہے۔ بائیں محاذ نے بھی اپنا امیدوار میدان میں اتارا ہے۔ ممتا گروپ کی جانب سے سنچیتا کے نامزدگی واپس لینے کے بعد نندی گرام میں مقابلے کی صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔
ممتا بنرجی نے موجودہ صورتحال پر الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر کئی الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ ممتا نے الزام لگایا کہ ان کی پارٹی کو شکست دینے کے لیے ایس آئی آر کا استعمال کیا گیا اور ای وی ایم کو ہائی جیک کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے تکبر کو مطمئن کرنے کے لیے کام کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ممتا نے یہ بھی الزام لگایا کہ بنگال انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا کام سی آر پی ایف کے ذریعہ کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی 29 سال پرانی پارٹی ہے اور اس کے باوجود پارٹی کا بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیا گیا ہے۔
ممتا نے دعویٰ کیا کہ پولیس ان کے کارکنوں پر بی جے پی میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور تقریباً 14 ہزار کارکن جیل میں ہیں۔ ان کی پارٹی کے کارکنوں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور وہ خود بھی ہاؤس اریسٹ میں ہیں۔ ٹی ایم سی کے نام اور انتخابی نشان کو لے کر الیکشن کمیشن کے عبوری فیصلے پر ممتا نے کہا کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے اور ان کی پارٹی اسے قانونی طور پر چیلنج کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سر نہیں جھکائیں گی اور پارٹی دوبارہ واپسی کرے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔