قومی خبریں

مظفر پور واقعہ: نتیش کو سیاسی دشمنوں کے ساتھ ساتھ دوستوں کی مخالفت کا بھی سامنا

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ پر نتیش کمار کو چہار جانب سے حملہ کا سامنا ہے۔ اس بھیانک واقعہ نے نتیش کمار کو گہرا جھٹکا دیا ہے اس لیے وہ پہنچے نقصان کی تلافی کرنے کی بہت زیادہ کوشش کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار

ریاست کے ذریعہ امداد یافتہ مظفر پور کے شیلٹر ہوم کی 44 میں سے 34 نابالغ لڑکیوں کی عصمت دری معاملے پر بولنے اور یہ دعویٰ کرنے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو کئی دن لگ گئے کہ وہ شرمندہ ہیں۔ لیکن جب اپنی ہی پارٹی کے سماجی فلاح کی وزیر پر الزام لگا تو وہ دفاع میں فوراً کود پڑے۔

مظفر پور واقعہ سے سماجی فلاح کی وزیر کے شوہر کا مبینہ تعلق ہے اور اس معاملے میں چاروں طرف سے حملے کا سامنا کر رہے نتیش کمار کو مجبوراً 6 اگست کو پٹنہ میں پریس کانفرنس کرنا پڑا۔ نتیش کمار نے اعلان کیا کہ ’’جو گناہ کرے گا وہ بچے گا نہیں۔ اگر وزیر سے جڑا کوئی بھی اس معاملے میں شامل ہے تو اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔‘‘ حالانکہ انھوں نے ہی فوراً یہ بھی کہہ دیا کہ ’’یہ معاملہ اس وقت کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔ ہم نے انھیں بلایا تھا اور انھوں نے اس معاملے میں کسی بھی تعلق سے انکار کیا ہے۔ بے بنیاد الزامات کو آخر کس طرح صحیح ٹھہرایا جا سکتا ہے۔‘‘

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیر منجو ورما کے شوہر چندر شیکھر ورما شیلٹر ہوم میں لگاتار آتے جاتے رہے ہیں اور لڑکیوں کے کمرے میں گھنٹوں وقت گزارتے رہے ہیں۔ بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’26 جولائی کو منجو ورما نے اپنے شوہر کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ ایک گرفتار ملزم کی بیوی ایک مہینے بعد بے بنیاد الزام لگا رہی ہے۔ 2016 میں میرے شوہر میرے ساتھ شیلٹر ہوم گئے تھے۔ ہم اس کے بعد کبھی وہاں نہیں گئے۔‘‘

Published: undefined

مظفر پور شیلٹر ہوم میں ہوئے اس بھیانک حادثہ کے بارے میں شائع رپورٹ میں مبینہ ملزمین کا نتیش کمار سے قریبی رشتہ بتایا گیا۔ اس واقعہ کے اہم ملزم برجیش ٹھاکر کی وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کے ساتھ تصویر بہار میں وائرل ہو چکی ہے۔ اس نے نتیش کمار کو گہرا جھٹکا دیا ہے اور وہ اس نقصان کی تلافی کرنے کی بہت زیادہ کوشش کر رہے ہیں۔ پیر کے روز اے این آئی نے رپورٹ کیا کہ نتیش کمار نے سارے ضلع مجسٹریٹ کو بہار کے سبھی چائلڈ ہوم اور شیلٹر ہوم کی جانچ کرنے کو کہا ہے۔ نتیش نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس گھناؤنے جرم کی جانچ کو پہلے ہی سی بی آئی کے حوالے کیا جا چکا ہے اور پٹنہ ہائی کورٹ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔

اس جرم کے سامنے آنے اور اس کے ملزمین سے نتیش کمار کی قربت ہونے کی خبروں نے نہ صرف خود نتیش کے سیاسی مخالفین کو ان کے خلاف ایک بڑا ایشو دے دیا ہے بلکہ این ڈی اے کے ان کے کئی ساتھیوں کو بھی انھیں سبق سکھانے کا موقع دے دیا ہے۔ اس کے پہلے 4 اگست کو سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے منجو ورما کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ شیلٹر ہوم کی انتظامی ذمہ داری محکمہ سماجی فلاح پر ہے۔ ورما کے استعفیٰ کا تازہ مطالبہ ان کی اتحادی ساتھی بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے بھی کیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر سی پی ٹھاکر نے کہا کہ اخلاقیات کی بنیاد پر ورما کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ پیر کے روز بہار سے بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن گوپال نارائن سنگھ نے پارلیمنٹ کے باہر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’چونکہ ان کے نام (منجو ورما اور ان کے شوہر) جانچ کے دوران آ چکے ہیں تو انھیں صاف ستھری تحقیقات کے لیے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ نتیش جی کو بھی انھیں کہہ دینا چاہیے کہ جانچ پوری ہونے تک وہ باہر رہیں۔‘‘

Published: undefined

مظفر پور کے واقعہ نے اپوزیشن پارٹیوں کو دہلی کے جنتر منتر پر 4 اگست کو اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی دعوت پر کانگریس صدر راہل گاندھی، عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری سمیت تقریباً درجن بھر پارٹیوں کے لیڈر جمع ہوئے اور انھوں نے متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا اور نتیش کمار کا استعفیٰ مانگا۔ پیر کے روز بھی آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ جے پرکاش نارائن یادو نے مظفر پور عصمت دری کا ایشو لوک سبھا میں اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’لڑکیوں کا استعمال کھلونوں کی طرح کیا گیا۔ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے۔ اس معاملے سے ریاستی حکومت کا براہ راست تعلق ہے۔‘‘

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ کے سامنے آنے کے بعد نتیش کمار تیزی سے ایک زہریلے سیاسی برانڈ بنتے جا رہے ہیں اور اس نے آر جے ڈی-کانگریس-ہم مہاگٹھ بندھن میں ان کے دوبارہ شامل ہونے کے امکانات کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ اسی لیے انھوں نے سیاسی تول-مول کی پوری طاقت ضائع کر دی ہے اور اب دیکھا جائے تو بی جے پی کے رحم و کرم پر ہی ہیں۔

Published: undefined

اپنی ضد کے لیے مشہور نتیش کمار اپنے پاؤں گڑاتے جا رہے ہیں۔ وہ نہ صرف خود استعفیٰ دینے سے انکار کر رہے ہیں بلکہ انھوں نے منجو ورما کا استعفیٰ بھی نہیں مانگا ہے۔ ایک سال قبل اس سے کتنی الگ شبیہ انھوں نے پیش کرنے کی کوشش کی تھی جب انھوں نے مہاگٹھ بندھن سے الگ ہو کر این ڈی اے کا ہاتھ تھاما تھا اور یہ کہا تھا کہ اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے اپنے اوپر ایک دہائی پرانے بدعنوانی کا الزام لگنے کے بعد اپنی صورت حال واضح نہیں کی۔

نتیش کمار کے کٹر حامیوں کے لیے بھی یہ کافی مشکل ہو رہا ہے کہ آخر دفاع کس طرح کریں، کیونکہ آزادی سے اب تک ریاست کی امداد یافتہ شیلٹر ہوم میں 34 نابالغ لڑکیوں کو اس قدر بھیانک جنسی استحصال سے نہیں گزرنا پڑا تھا۔

بی جے پی لیڈروں کے علاوہ اوپیندر کشواہا کی آر ایل ایس پی سمیت دیگر این ڈی اے ساتھیوں نے بھی نتیش کی طرف اپنی بندوقیں تان دی ہیں۔ لیکن رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن پارلیمنٹ وینا دیوی نے بہار کے وزیر اعلیٰ پر سب سے سخت حملہ کیا ہے۔

Published: undefined

4 اگست کو دہلی میں ہوئے اپوزیشن کے مظاہرہ سے زیادہ ان کھلے حملوں کے ساتھ ساتھ این ڈی اے اور ان کی پارٹی کے اندر چل رہی کھسپھساہٹ نے نتیش کمار کے لیے مشکلیں پیدا کر دی ہیں۔ ریپبلک ٹی وی، ٹائمس ناؤ اور انڈیا ٹوڈے نیوز چینلوں کے صحافیوں کے ساتھ پٹنہ میں منجو ورما کے سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعہ کی گئی دھکا مکی اور مار پیٹ نے حالت کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ 3 اگست کو اسی پروگرام میں ہوا جس میں نتیش کمار نے مظفر پور کے واقعہ پر منھ کھولا اور کہا کہ انھیں بہت شرمندگی ہوئی ہے۔

حال تک اس سنسنی خیز واقعہ کو بہار کا میڈیا بہت زیادہ توجہ نہیں دے رہا تھا۔ ’کشش نیوز‘ کو چھوڑ کر کسی اور چینل یا نیوز پیپر نے اس معاملے کو لگاتار نہیں اٹھایا۔ بی جے پی سے نزدیکی رکھنے والے ان نیوز چینلوں کے صحافیوں پر ہوئے حملے نے پوری بساط ہی پلٹ دی۔

تمام پارٹیوں کے لیڈر اس بات پر متحد ہیں کہ مظفر پور کے واقعہ نے نتیش کمار کی شبیہ کو گہرا دھکا پہنچایا ہے۔ ایک سال پہلے انھوں نے اخلاقیات کا حوالہ دیتے ہوئے تیجسوی یادو کو الگ کر دیا تھا۔ اب وہ کیا کریں گے جب ان کا اور ان کی پارٹی کی وزیر کا نام اس نئے معاملے میں آ رہا ہے؟ کیا نتیش کمار پھر سیاسی طور پر کسی طرح بچ جائیں گے، یہ سوال کئی لوگوں کے دماغ میں گشت کر رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined