قومی خبریں

مہنگی سبزیوں کے لیے مسلمان ذمہ دار! ہیمنت بسوا سرما کا بیان، اویسی کا جوابی حملہ

آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میاں تاجر گوہاٹی میں آسام کے لوگوں سے سبزیوں کے اونچے دام وصول رہے ہیں، جبکہ گاؤں میں سبزیوں کے دام قدرے کم ہیں، لہذا سبزیوں کی گراں بازاری کے لیے مسلمان ذمہ دار ہیں

<div class="paragraphs"><p>گوہاٹی کے بازار میں سبزیوں کی فروخت / Getty Images</p></div>

گوہاٹی کے بازار میں سبزیوں کی فروخت / Getty Images

 
NurPhoto

نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اپنے بے تکے بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ اس بار انہوں نے سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام، خاص کر گوہاٹی میں سبزیوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور اس کے ذمہ دار ’میاں مسلمان‘ تاجر ہیں۔ وہیں، ہی اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سرما کے بیان پر جوابی حملہ کیا ہے۔

Published: undefined

دراصل، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوار سرما نے کہا کہ ’’میاں تاجر گوہاٹی میں آسامی لوگوں سے سبزیوں کی زیادہ قیمت وصول کر رہے ہیں، جبکہ گاؤں میں سبزیوں کی قیمت کم ہے۔ اگر آج آسامی تاجر سبزی بیچ رہے ہوتے تو وہ کبھی بھی اپنے آسامی لوگوں سے زیادہ قیمت نہ لیتے!‘‘

صرف اتنا ہی نہیں، ہیمنت بسوا نے مزید کہا کہ ’’ہم سب نے دیکھا ہے کہ عید کے دوران گوہاٹی شہر میں بسوں کی آمدورفت کم ہوتی ہے۔ بھیڑ کم نظر آتی ہے، کیونکہ بس اور کیب کے زیادہ تر ڈرائیور میاں برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

اس سے قبل ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ حکومت تعدد ازدواج کو روکنے کے لیے اگلے اسمبلی اجلاس میں ایک بل لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے اگلے اجلاس میں بل منظور نہیں ہوا تو جنوری میں بل لایا جائے گا۔ سی ایم سرما نے دعویٰ کیا کہ پیغمبر اسلامؐ نے بھی تعدد ازدواج کی حمایت نہیں کی، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ مسلمان مرد کی صرف ایک بیوی ہونی چاہیے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا گروہ ہے، جس کے گھر میں اگر بھینس دودھ نہ دے یا مرغی انڈے نہ دے، تو وہ اس کے لیے بھی میاں جی کو ہی مورد الزام ٹھہرائیں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined