
فائل تصویر آئی اے این ایس
15 مئی کو، ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالا کمپلیکس کے بارے میں ایک فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اے ایس آئی کی 98 دن کی سروے رپورٹ کو برقرار رکھا اور بھوج شالا کمپلیکس کو ہندو مندر قرار دیا۔ عدالت نے اسے دیوی سرسوتی (واگ دیوی) کے لیے وقف ایک مقام قرار دیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مقامی مسلم کمیونٹی کی جانب سے ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مندر یا مسجد بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
Published: undefined
بھوپال کے ایک مسلمان نے کہا، "اس جگہ پر نہ تو مندر بننا چاہیے اور نہ ہی مسجد۔ وہاں اس سے بہتر ہے کہ اسپتال بنادیا جائے۔ ہر بیمار وہاں جائے گا، لوگوں کا علاج ہو گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ وہاں اسپتال بنا دیا جائے۔"عدالتی حکم کے مطابق مسلمانوں کو نماز کے لیے علیحدہ زمین دی جائے گی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا، "مساجد تو بہت ہیں، لیکن اسپتالوں کی کمی ہے، اگر اسپتال بن جائے تو تمام مذاہب کے لوگ، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، علاج کے لیے وہاں جاسکیں گے۔ اسپتال سے بڑا کوئی مذہبی مقام نہیں ہوسکتا۔"
Published: undefined
ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ ہندو اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے، اس لیے اس جگہ پر مندر یا مسجد بنانے کے بجائے اسکول، کالج یا اسپتال بنانا بہتر ہوگا۔ تب ہی یہ جگہ تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے کھلے گی۔
Published: undefined
ایک اور مسلمان شخص نے کہا، "ان دنوں مندر اور مسجد کے نام پر تمام تنازعات لڑے جا رہے ہیں، اس لیے اس معاملے میں ایسے فیصلے کی ضرورت ہے جو ہندو مسلم اتحاد کی مثال قائم کرے۔ ہم خود ہندو خاندانوں کے ساتھ ایک ہی محلے میں رہتے ہیں۔" آج بھی ہماری دعائیں اور سلام ہمارے ہندو بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کا کوئی ایسا حل نکالیں جس سے یہاں یہ پریشانی ختم ہو جائے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined