
سوشل میڈیا
ممبئی: مہاراشٹر میں ممبئی سمیت 29 بلدیاتی اداروں کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جو شام 5 بج کر 30 منٹ تک چلے گا۔ ان انتخابات کو ریاستی سیاست کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ طویل وقفے کے بعد شہری بلدیاتی اداروں کے لیے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملا ہے۔ ممبئی کے ساتھ ساتھ ٹھانے، نوی ممبئی، الہاس نگر، کلیان۔ڈومبیولی، بھونڈی۔نظام پور، میرا۔بھایندر، وسئی۔ویرار، پنویل، ناسک، مالیگاؤں، اہلیہ نگر، جلگاؤں، دھولیہ، پونے، پمپری۔چنچوڑ، سولاپور، کولہاپور، اچلکرنجی، سانگلی۔میرج۔کپواڑ، چھترپتی سنبھاجی نگر، ناندیڑ۔واگھالا، پربھنی، جالنہ، لاتور، امراوتی، اکولا، ناگپور اور چندرپور میں بھی عوام صبح سے ہی پولنگ بوتھس پر پہنچ رہے ہیں۔
Published: undefined
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے 227 وارڈوں میں تقریباً 1700 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ ممبئی میں ایک کروڑ تین لاکھ سے زائد ووٹر اپنے حق رائے دہی کے اہل ہیں۔ ووٹنگ کے پرامن انعقاد کے لیے ممبئی پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں، مختلف علاقوں میں ناکہ بندی، گاڑیوں کی جانچ اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹرز کی سہولت کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ خواتین کے زیر انتظام پنک پولنگ بوتھس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ بزرگ شہریوں اور خصوصی ضرورتوں والے افراد کی مدد کے لیے رضاکار ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ ووٹنگ کے دن سرکاری و نجی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ملازمین کو ووٹ ڈالنے کے لیے مناسب وقت فراہم کریں۔
Published: undefined
انتخابی دن کے دوران مختلف سیاسی، سماجی اور فلمی شخصیات نے بھی ووٹنگ میں حصہ لیا اور عوام سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ اداکار نانا پاٹیکر نے پونے سے سفر کر کے ووٹ ڈالا اور کہا کہ ووٹ دینا ان کے وجود کا حصہ ہے۔ سابق کرکٹر سچن تیندولکر، اداکار اکشے کمار اور دیگر معروف شخصیات نے بھی ووٹنگ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا۔
سیاسی اعتبار سے یہ انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ 2022 میں شیو سینا کی تقسیم کے بعد یہ پہلا بڑا بلدیاتی امتحان ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ ممبئی اور ریاست میں مختلف سیاسی دھڑوں کا اثر و رسوخ کس حد تک برقرار ہے۔ ووٹنگ کے نتائج کا اعلان 16 جنوری کو ہوگا، جس کے بعد مہاراشٹر کی شہری سیاست کی نئی سمت واضح ہونے کی توقع ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined