
ہریانہ واقع ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں ملازمین سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی
تصویر: پریس ریلیز
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں ہریانہ واقع ایک ٹیکسٹائل فیکٹری کا دورہ کیا تھا، جس کی ویڈیو آج انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی ہے۔ راہل گاندھی نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے یہ جانکاری بھی دی ہے کہ ہندوستانی کپڑا تاجروں کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے، جو کہ ہندوستانی معیشت کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔ انھوں نے موجودہ عالمی حالات کا بھی ذکر اپنی پوسٹ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہندوستان میں 4.5 کروڑ سے زائد ملازمتیں خطرے میں ہیں، جس کی جوابدہی وزیر اعظم نریندر مودی کی بنتی ہے۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیکسٹائل فیکٹری کے ذمہ داران سے ہوئی بات چیت کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’50 فیصد امریکی ٹیرف اور غیر یقینی صورتحال ہندوستان کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرس کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ ملازمتوں کا خاتمہ، فیکٹریوں پر تالا لگنا اور آرڈرس میں کمی ہماری ’مردہ معیشت‘ کی تلخ حقیقت ہیں۔‘‘ وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ’’مسٹر مودی نے نہ کوئی راحت دی ہے اور نہ ہی ٹیرف کے بارے میں بات کی ہے، حالانکہ 4.5 کروڑ سے زیادہ ملازمتیں اور لاکھوں کاروبار داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مودی جی، آپ جوابدہ ہیں... براہ کرم اس معاملے پر توجہ دیں!‘‘
Published: undefined
یہ ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے ’یوٹیوب چینل‘ پر بھی شیئر کی ہے، جس کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت ہماری معیشت میں روزگار فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ ہمارے ٹیکسٹائل دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں، ہمارے درزیوں کی کاریگری کا واقعی کوئی مقابلہ نہیں۔ لیکن آج یہ صنعت امریکی ٹیرف کی وجہ سے شدید غیر یقینی اور خوف کا شکار ہے۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’امریکہ کے 50 فیصد ٹیرف، یوروپ میں گرتی ہوئی قیمتیں اور بنگلہ دیش و چین سے سخت مقابلہ... ہمارے کپڑے اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹرس ہر طرف سے مصیبت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر روزگار پر پڑ رہا ہے، یونٹس بند ہو رہی ہیں، خریداری میں کمی آ رہی ہے اور پورے شعبہ میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا ہے کہ ٹیرف معاملہ پر وزیر اعظم مودی نے اب تک کچھ بھی بیان نہیں دیا ہے۔ شکایتی انداز میں راہل گاندھی نے کہا کہ ’’مسٹر مودی نے نہ کوئی راحت دی ہے اور نہ ہی ٹیرف کے بارے میں بات کی ہے، حالانکہ 4.5 کروڑ سے زیادہ ملازمتیں اور لاکھوں کاروبار داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہریانہ میں ایک گارمنٹ فیکٹری کے اپنے حالیہ دورہ کے دوران میں نے خود اپنے درزیوں کی مہارت اور عزائم کو دیکھا... انہیں صرف ایک ایسی حکومت چاہیے جو انہیں حقیقی معنوں میں سہارا دے۔‘‘ راہل گاندھی نے آخر میں گزارش کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہندوستان ایسا تجارتی معاہدہ طے کرے جس میں ہندوستانی کاروباروں اور ہندوستانی محنت کشوں کو اولین ترجیح دی جائے۔ انھوں نے پی ایم مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انھیں اپنی کمزوری کو مزید ہماری معیشت پر اثرانداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: شاہد صدیقی علیگ