
سیلاب کا قہر (فائل)۔ ویڈیو گریب
اتر پردیش میں مانسون کی بارش کے باعث ندیوں میں طغیانی سے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ریاستی راحت کمشنر کے دفتر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے 13 اضلاع کے تقریباً 173 گاؤں سیلاب کی زد میں ہیں۔ اس سے تقریباً 84,362 آبادی اور 13,058 ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا ہے۔ حالانکہ ریاستی راحت کمشنر رشی کیش بھاسکر یشودی نے منگل کو صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں صورتحال پوری طرح قابو میں ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ کھانے اور صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
راحت کمشنر کے دفتر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ریاست کے جن 13 اضلاع کے 173 گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، وہ بدایوں، بہرائچ، بلیا، بارہ بنکی، بجنور، فرخ آباد، گوتم بدھ نگر، گونڈا، کاس گنج، لکھیم پور کھیری، مظفر نگر، سیتاپور اور اناؤ ہیں۔ سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے راحت کمشنر کے دفتر کا کنٹرول روم اضلاع سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ہیلپ لائن نمبر 1070 پر موصول ہونے والی شکایات اور اطلاعات پر فوری کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں راحتی کام جنگی پیمانے پر جاری ہیں۔ ریاست بھر میں 1,589 سیلاب چوکیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 1,263 ریلیف شیلٹرز تیار کی گئی ہیں، جن میں سے 41 شیلٹرز فعال ہیں اور ان میں 1,045 لوگ رہ رہے ہیں۔ اب تک 4,845 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ راحتی کارروائیوں کے لیے 428 کشتیاں اور موٹر بوٹس اور 1,101 مقامی غوطہ خور تعینات کیے گئے ہیں۔ متاثرین کے درمیان اب تک 15,238 غذائی پیکٹ اور 30,316 لنچ پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاست بھر میں این ڈی آر ایف کی 16 ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایس ڈی آر ایف اور پی اے سی کی ٹیموں کو 52 اضلاع میں مستعد رکھا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی وارننگ عوام تک پہنچانے کے لیے بھی یکم اگست سے 18 اگست 2026 کے درمیان 140.52 کروڑ سے زیادہ ایس ایم ایس الرٹس بھیجے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی سیلاب اور آفات سے بچاؤ کے اقدامات مسلسل شیئر کیے جا رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔