
پی ایم مودی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر درج فہرست ذات و قبائل کے بجٹ سے چوری کر اس رقم کو دیگر کاموں میں استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان طبقات کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے مخصوص منصوبوں کے بجٹ میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔ کانگریس لیڈران نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت ایک مرکزی قانون لائے، تاکہ ایس سی-ایس ٹی کا بجٹ انہی کے لیے استعمال ہو اور ضائع نہ ہو جائے۔
Published: undefined
اس معاملہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس درج فہرست ذات ڈپارٹمنٹ کے صدر راجندر پال گوتم اور آدیواسی کانگریس کے قومی صدر ڈاکٹر وکرانت بھوریا نے بتایا کہ مودی حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیے گئے 58 لاکھ کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ میں سے درج فہرست ذات کے لیے 1,96,400 کروڑ روپے اور درج فہرست قبائل کے لیے 1,41,089 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے بجٹ کا صرف 41 فیصد ہی حقیقی معنوں میں ان کی ترقی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ 42 فیصد رقم عام منصوبوں میں اور 17 فیصد ایسی اسکیموں میں جا رہی ہے جن کا دلتوں اور قبائلیوں سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔
Published: undefined
راجندر پال گوتم نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایس سی-ایس ٹی کے بجٹ میں سے یوریا سبسڈی کے لیے 14,584 کروڑ روپے، فرٹیلائزر سبسڈی کے لیے 6,804 کروڑ روپے، ٹیلی کام کمپنسیشن کے لیے 2,539 کروڑ روپے، انفراسٹرکچر مینٹیننس کے لیے 2,535 کروڑ روپے اور روڈ ورکس کے لیے 10,150 کروڑ روپے دیے گئے، جبکہ ایس سی-ایس ٹی برادری کے بیشتر لوگ بے زمین ہیں اور زرعی سبسڈی کا فائدہ انہیں نہیں ملتا۔
Published: undefined
راجندر پال گوتم نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان طبقات کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے مخصوص منصوبوں کا بجٹ مسلسل گھٹ رہا ہے اور نظرثانی شدہ بجٹ میں اسے مزید کم کر دیا جاتا ہے۔ کئی منصوبوں میں فنڈ سرنڈر ہو جاتا ہے۔ مثال پیش کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ حکومت رقم کی کمی کا بہانہ بنا کر بچوں کے خواب توڑ رہی ہے۔ نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کے تحت منتخب 106 بچوں میں سے صرف 40 بچے ہی بیرون ملک جا سکے، جبکہ 66 بچوں کو ’فنڈ کی کمی‘ بتا کر روک دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے دوران 48,000 بچوں نے خودکشی کی، جن میں بیشتر ایس سی-ایس ٹی اور او بی سی سماج سے تھے۔ انہوں نے اس کی بنیادی وجہ ذات پات پر مبنی امتیاز اور بھاری فیس کو بتایا۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کی اسکالرشپ وقت پر نہیں آتی، جس سے قرض بڑھ جاتا ہے اور پریشان ہو کر طلبا یا تو تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں یا خودکشی جیسے سخت قدم اٹھا لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس سی-ایس ٹی فائنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشنز کی حالت بھی اچھی نہیں ہے اور بجٹ کی کمی کے باعث یہ ایس سی-ایس ٹی طبقات کے طلبا کو قرض نہیں دے پا رہے ہیں۔
Published: undefined
دوسری طرف آدیواسی کانگریس کے قومی صدر ڈاکٹر وکرانت بھوریا نے بجٹ کو چوری کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبائلیوں کے لیے مختص 1.41 لاکھ کروڑ روپے میں سے درحقیقت مخصوص بجٹ محض 64,000 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائبل سب پلان کا بجٹ صرف قبائلیوں کے لیے منظور ہونے کے باوجود اسے دوسرے محکموں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اندور میٹرو اور وزیر اعظم کی ریلیوں میں یہ رقم خرچ کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined