
مودی حکومت کی طرف سے حال ہی میں وزارت خزانہ سے جڑے 12 اعلی افسران کو لازمی طور پر ریٹائر کرنے کے بعد اب مزید 15 افسران پر گاج گری ہے۔ حکومت نے سی بی آئی سی سے وابستہ مزید 15 اعلیٰ افسران کو جبری ریٹائرمنٹ دے کر گھر بھیج دیا ہے۔
حکومت نے سی بی آئی سی (سینٹرل بورڈ آف اِن ڈائریکٹ انڈ کسٹمس) کے 15 انتہائی اعلی افسران کو (جن میں پرنسپل کمشنر، کمشنر، ایڈیشنل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر شامل ہیں) کو اصول 56 (جے) کے تحت جبری ریٹائرمنٹ لینے کے احکامات صادر کر دیئے۔ سی بی آئی سی بھی وزارت خزانہ کے ہی ماتحت آتا ہے۔
حکومت کی طرف سے اتنے بڑے پیمانے پر اعلیٰ افسران پر کارروائی سے ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 10 جون کو 12 افسران پر کارروائی کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ مانگ لیا گیا تھا۔
ان تمام افسران پر عہدے پر رہنے کے دوران رول بک کے خلاف کام کرنے کا الزام ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے حوالہ سے کہا جا رہا ہے کہ وزارت خزانہ کی طرف سے یہ کارروائی اصول 56 کے تحت کی گئی ہے۔
مودی حکومت کی طرف سے چند دنوں کے اندر دو مرتبہ اعلیٰ افسران پر کی گئی کارروائی کی وجہ سے افسران کے درمیان ایک خوف نظر آنے لگا ہے۔ افسران شدت سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ حکومت کی پالیسی یک دم بالکل تبدیل ہو چکی ہے اور آگے بھی کب کس افسر پر گاج گرے گی یہ کہا نہیں جا سکتا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔