
جے رام رمیش / INCIndia@
کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس حکومت نے فلسطینیوں اور ان کے مفادات کو ترک کر دیا ہے۔ منگل کے روز کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے فلسطین کے تئیں ہندوستان کی دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے چند پہلے ممالک میں شامل تھا۔
Published: undefined
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کی بے دخلی اور بے گھر ہونے کی کارروائی تیز ہو گئی ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔ غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ وہیں اسرائیل اور امریکہ ایران پر فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ پھر بھی وزیراعظم اپنے اس اچھے دوست نیتن یاہو کو گلے لگانے کے لیے کل اسرائیل کا سفر کر رہے ہیں جن پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔ اسرائیل میں اپوزیشن وہاں کی پارلیمنٹ میں مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اپوزیشن اس بات پر احتجاج کر رہا ہے کیسے نیتن یاہو اسرائیل میں عدلیہ کی آزادی کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت فلسطینیوں کے مفادات سے اپنی وابستگی کے بارے میں مشکوک اور منافقانہ بیانات دیتی ہے۔
Published: undefined
جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت نے انہیں (فلسطینیوں کو) چھوڑ دیا ہے، وہ یہ بھول گئی ہے کہ ہندوستان 18 نومبر 1988 کو فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک تھا۔ خبروں کے مطابق مودی 25 فروری کو دو روزہ دورے پر اسرائیل جائیں گے۔ اس دوران ان کا کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب کرنے کا بھی پروگرام ہے۔ مودی اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے بھی ملاقات کریں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined