
اکھلیش یادو (تصویر ویڈیو گریب)
اتر پردیش میں ایم ایل سی انتخاب کے دوران کئی مقامات پر ہنگامہ آرائی، مارپیٹ اور مبینہ طور پر بوتھوں پر قبضے کی شکایتیں سامنے آئی ہیں۔ بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے لیڈران نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں۔ آگرہ ٹیچر سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار آکاش اگروال نے بھی بوتھوں پر قبضے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ وہ میڈیا کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر روتے نظر آئے۔ جذباتی ہوتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’وہ شاہی جامع مسجد جائیں گے اور اسلام مذہب اختیار کر لیں گے۔‘‘ اس معاملے پر اب سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آکاش اگروال کے آنسو دیکھ کر ہر کوئی افسردہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر آکاش اگروال کی ویڈیو شیئر کر لکھا کہ ’’اتر پردیش، ملک اور دنیا بھر کا پورا ’اگروال سماج‘ یہ آنسو دیکھ کر انتہائی رنجیدہ ہے۔ ٹیچر/گریجویٹ ایم ایل سی انتخاب میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر آکاش اگروال جی کو ہرانے کے لیے بی جے پی والوں، ان کے ساتھیوں اور افسران نے مل کر انتخابی دھاندلی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ اس سے پریشان، افسردہ اور بے عزت ہو کر ڈاکٹر آکاش اگروال جی ایک ایسا فیصلہ لینے کا اعلان کر رہے ہیں، جس سے ان کی طرح پورا ’اگروال سماج‘ بھی رنجیدہ ہو گیا ہے۔‘‘
اکھلیش یادو نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’وقت آنے پر ہم ڈاکٹر آکاش اگروال جی کو مناسب عزت اور مقام دے کر پورے ’اگروال سماج‘ کے وقار کو دوبارہ بحال کریں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’انتخاب کے لوٹیرے ان دغا باز بھاجپائیوں اور ان کے ساتھیوں کی بدعنوان حکومت اب مزید نہیں چلے گی۔ عوام اب ان کی جڑوں میں ’مَٹھا‘ ڈال دیں گے۔ بی جے پی کسی کی ’سگی‘ نہیں ہے۔ ہم ڈاکٹر آکاش اگروال جی اور پورے اگروال سماج کے ساتھ ہیں۔‘‘
قابل ذکر ہے آگرہ ٹیچر سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار آکاش اگروال نے بوتھوں پر قبضے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ وہ اپنی شکایت لے کر ڈویژنل کمشنر کے دفتر پہنچے اور وہاں میڈیا کے سامنے رونے لگے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سیٹ پر کئی مقامات پر بوتھوں پر قبضہ کیا گیا اور ان کے پاس اس کے ثبوت ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور الیکشن کمیشن بوتھوں پر قبضے روکنے میں ناکام رہے ہیں اور انہیں پریشان کیا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کے پاس منشیات (ڈرگ) رکھ کر انہیں جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
آکاش اگروال نے مزید کہا کہ ’سناتن دھرم‘ کے جن رکھوالوں اور محافظوں کی وجہ سے انہیں پریشان کیا جا رہا ہے، وہ ایسے ’سناتن دھرم‘ میں نہیں رہنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ ماہ لکھنؤ کی شاہی عیدگاہ جا کر اپنا مذہب تبدیل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آزاد ہندوستان میں رہ رہے ہیں اور وہ کس پارٹی سے انتخاب لڑیں گے یا نہیں، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔