
مندر کا گھنٹہ، تصویر آئی اے این ایس
رام نگری ایودھیا میں سماج دشمن عناصر نے ماحول بگاڑنے کی ایک بار پھر کوشش کی ہے۔ پولیس اسٹیشن سے 150 میٹر کے فاصلے پر موجود ایک مندر میں شرپسندوں کے ذریعہ توڑ پھوڑ کی گئی اور گھنٹہ چوری کر لیا گیا۔ مندر سے کچھ فاصلے پر ترشول پھینکا ہوا ملا ہے۔ یہ واقعہ فتح گنج چوکی کے پاس واقع شنی دھام مندر کا ہے۔ اس واقعہ کی خبر ملنے کے بعد لوگوں میں کافی غصہ ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں معاملہ درج کر چوروں کی تلاش اور تحقیقات شروع کر دی ہے۔ پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر مندر کی تعمیر نو کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔
Published: undefined
ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات کچھ شرپسند عناصر نے مذہبی عقیدہ کو ٹھیس پہنچانے اور سماجی ماحول کو خراب کرنے کے لیے مندر میں توڑ پھوڑ کر دی۔ مندر کا تقریباً 14 کلو وزنی پییتل کا گھنٹہ بھی غاب ہو گیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فتح گنج پولیس چوکی سے شنی دھام مندر کا فاصلہ صرف 150 میٹر ہے۔ ایسے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے ڈر کے بغیر بے خوف ہو کر واقعہ کو انجام دیا گیا، جو لاء اینڈ آرڈر پر کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔
Published: undefined
منگل (18 مارچ) کو صبح ایودھیا ضلع کے کوتوالی علاقے کے وزیر گنج میں لوگوں کی نظر مندر کی ٹوٹی ٹائلس پر پڑی، جس کے بعد دھیرے دھیرے مندر کے آس پاس بھیڑ جمع ہونے لگی۔ پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی گئی۔ جائے وقوع پر پہنچ کر جب پولیس نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ مندر کے پیتل کے گھنٹے اور ترشول غائب کر دیے گئے ہیں۔ پولیس کی تلاشی میں مندر سے تقریباً 150 میٹر کے فاصلے پر مندر کا ترشول پایا گیا، جس کے بعد اسے مندر میں لا کر رکھا گیا ہے۔ مندر کی ٹائلس توڑنے اور مندر سے گھنٹہ غائب ہونے کی خبر سے علاقائی لوگوں میں غم و غصے کا ماحول ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری طور پر مندر کی تعمیر نو کا کام شروع کر دیا ہے۔ وہیں مندر سے غائب گھنٹے کو تلاش کرنے کے لیے پولیس نے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کئی دہائیوں پرانے پیپل کے درخت کے نیچے شنی دھام مندر قائم کیا گیا تھا۔ اس مندر سے مقامی لوگوں کا عقیدہ جڑا ہوا ہے۔ علاقہ کے تمام لوگ شنی دھام مندر میں صبح شام پوجا کرتے ہیں۔ مندر میں ہفتہ کو عقیدتمندوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہاں سے ’پل کارپوریشن‘ کے ذریعہ فلائی اوور بنوایا جا رہا تھا، تب بھی اس مندر کو کہیں اور منتقل کرنے کی بات آئی، لیکن مندر میں لوگوں کے عقیدے اور لگاؤ کو دیکھتے ہوئے پُل کارپوریشن نے بھی اس مندر کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined