قومی خبریں

جب تک اراولی کی تعریف طے نہیں ہوتی، تب تک کانکنی پر پابندی عائد، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ اراولی کیا ہے؟ چیف جسٹس آف انڈیا نے یہ تبصرہ تب کیا جب سینئر وکیل مکل روہتگی نے اپنے ایک موکل کا موقف رکھا۔

<div class="paragraphs"><p>اراولی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/BhupinderShooda">@BhupinderShooda</a></p></div>

اراولی، تصویر ’ایکس‘ @BhupinderShooda

 

اراولی پہاڑی سلسلہ کو تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی، جس میں عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جب تک اراولی کی صحیح تعریف طے نہیں ہو جاتی اور متعلقہ علاقہ کے ماہرین کی کمیٹی اپنی رپورٹ نہیں دیتی تب تک کانکنی کا کوئی نیا پٹہ جاری نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اراولی کی تعریف سے متعلق از سر نو جانچ کے لیے متعلقہ علاقہ کے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

Published: undefined

سپریم کورٹ ماہرین کی کمیٹی سے متعلق کہا کہ وزارت ماحولیات اس کے لیے ناموں کا مشورہ دے گی۔ اراولی معاملہ سے جڑے سینئر وکلا سے بھی ماہرین کے نام طلب کیے جائیں گے۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے تک اراولی علاقہ میں کانکنی کے کسی بھی نئے پٹہ پر روک جاری رہے گی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ اراولی کیا ہے؟ چیف جسٹس آف انڈیا نے یہ تبصرہ تب کیا جب سینئر وکیل مکل روہتگی نے اپنے ایک موکل کا موقف رکھا، جس نے 10 سال کی طویل قانونی لڑائی کے بعد کانکنی پٹہ حاصل کیا تھا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ فی الحال نیا پٹہ جاری نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں جن کاموں کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں، انھیں بھی فی الحال روکنا ہوگا۔

Published: undefined

دراصل پورا تنازعہ اراولی کی نئی تعریف (100 میٹر کا اصول) کے بعد شروع ہوا ہے۔ اب صرف انہی ڈھانچوں کو اراولی پہاڑی مانا جائے گا جن کی اونچائی اپنے آس پاس کی زمین سے 100 میٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ جو پہاڑیاں 100 میٹر سے کم اونچی ہیں، وہ اب اراولی کی رینج میں نہیں آئیں گی، جس سے وہاں کانکنی، رئیل اسٹیٹ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کا راستہ صاف ہو سکتا ہے۔ وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے اس تعلق سے کہا تھا کہ اراولی کے مجموعی 1.44 لاکھ اسکوائر کلومیٹر خطہ میں محض 217 کلومیٹر میں، یعنی صرف 0.19 فیصد حصہ میں ہی کانکنی کی اجازت ہے، کیونکہ اراولی کی پہاڑیوں کی پیمائش میں 100 میٹر کا مطلب صرف زمین سے چوٹی تک کی اونچائی سے نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined