قومی خبریں

میٹا نے ’فیس بک‘ سے وزیر اعظم مودی کی پوسٹ ہٹانے پر مانگی معافی

میٹا نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کی ویڈیو تکنیکی غلطی سے ہٹ گئی تھی۔ پھر بعد میں غلطیوں کو سدھارا گیا، اور ہٹ گئے مواد کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p> ‘میٹا‘</p></div>

‘میٹا‘

 

فیس بک سے وزیر اعظم نریندر مودی کی پوسٹ ہٹانے پر ’میٹا‘ نے معافی مانگی ہے۔ میٹا نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کی ویڈیو تکنیکی غلطی سے ہٹ گئی تھی۔ پھر بعد میں غلطیوں کو سدھارا گیا، اور ہٹ گئے مواد کو دوبارا بحال کر دیا گیا ہے۔‘‘ دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے 23 جولائی کو فیس بک پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ جسے میٹا نے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد کئی لیڈران نے اس حوالے سے اعتراض کیا۔ اس ویڈیو کو لاکھوں بار دیکھا گیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے اس ویڈیو کو سیلفی موڈ میں ریکارڈ کیا تھا، اور انہوں نے اس ویڈیو کے ذریعہ طلباء کو پیغام دیا تھا۔

وزیر اعظم مودی نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ’’انہوں نے پیپر لیک کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور آگے بھی سخت قدم اٹھائیں گے۔‘‘ ذرائع کے مطابق ویڈیو ہٹنے کے بعد حکومت نے میٹا کے گلوبل ہیڈ کو طلب کیا، اور انسٹا کے گلوبل ہیڈ کو بھی سمن بھیجا گیا تھا۔ واضح رہے کہ میٹا کا ہندوستان میں ایک بڑا یوزر بیس ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے آفیشل پیج پر کروڑوں کی تعداد میں فلوورس ہیں۔ وزیر اعظم مودی کے انسٹا گرام پر 105 ملین اور فیس بک پر 61 ملین، جب کہ واٹس ایپ پر 15 ملین فلوورس ہیں۔

ویڈیو ہٹائے جانے پر لیڈران کے رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں بی جے پی لیڈر تیجندر سنگھ بگا نے بھی میٹا پر سنگین الزام لگایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ وزیراعظم مودی نے پیپر لیک کے خلاف سخت کارروائی کے حوالے سے ایک پوسٹ کی تھی۔ جسے میٹا نے ہندوستان میں بلاک کر دیا۔ فیس بک پر ان کی پوسٹ نظر نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میٹا نے آخر کس کے کہنے پر اس قسم کی حرکت انجام دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔