قومی خبریں

’پارلیمنٹ میں بھی اراکین پارلیمنٹ کو نہیں مل رہی چائے‘، رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے حکومت کی کھولی قلعی

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کمی ہے۔ میں روزہ رکھ رہا ہوں، لیکن کل پارلیمنٹ میں بحث کا موضوع یہ تھا کہ چائے دستیاب نہیں ہے۔ پھر بھی حکومت کہہ رہی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>محمد جاوید، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

محمد جاوید، تصویر سوشل میڈیا

 

مشرق وسطیٰ میں جنگ سے پیدا حالات نے ہندوستان میں ایل پی جی کی شدید قلت پیدا کر دی ہے۔ حکومت بھلے ہی ایل پی جی سلنڈر بحران سے انکار کر رہی ہے، لیکن مختلف ریاستوں سے جو تصویریں اور ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں وہ فکر انگیز ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی حکومت کے دعووں کو غلط ٹھہراتے ہوئے ایک ایسا بیان دیا ہے، جو حکمراں طبقہ کے بیانات کی قلعی کھولنے والی ہے۔

Published: undefined

محمد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں چائے تک نہیں مل پا رہی ہے، پھر حکومت یہ دعویٰ کیسے کر سکتی ہے کہ ایل پی جی سلنڈر کی قلت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو ’کالابازاری‘ کے سبب بڑھی ہوئی قیمتیں دے کر ایل پی جی سلنڈر 1500 روپے سے 2000 روپے تک میں دینے پڑ رہے ہیں۔ ایل پی جی بحران کی حالت تو کچھ ایسی ہے کہ اس کی آنچ پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔

Published: undefined

کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید کا کہنا ہے کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ (ایل پی جی سلنڈر) کی کمی ہے۔ میں روزہ رکھ رہا ہوں، لیکن کل پارلیمنٹ میں بحث کا موضوع یہ تھا کہ جب اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کینٹین میں چائے یا کافی مانگی، تو انھیں بتایا گیا کہ یہ دستیاب نہیں ہے۔ پھر بھی آپ (حکومت) دعویٰ کرتے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ کالابازاری کی خبریں آ رہی ہیں، لوگوں کو زیادہ قیمتوں پر بلیک میں سلنڈر خریداری کرنی پڑ رہی ہے۔ ان خبروں کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ محمد جاوید نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بھلے ہی کہہ رہی ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن زمینی حقیقت بہت الگ ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined