راہل گاندھی اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین (فائل تصویر)، @HemantSorenJMM
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے رانچی میں طلبا کے احتجاج پر جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ وہ بذات خود احتجاج کرنے والے طلبا سے ملاقات کریں تاکہ ان کی تشویش دور کرنے کے لیے جھارکھنڈ حکومت کے عزم کو مضبوط کیا جا سکے۔
قابل ذکر ہے کہ جھارکھنڈ میں ہیمنت سورین کی قیادت میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم)، کانگریس، بایاں محاذ اور آر جے ڈی کی حکومت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی نے خط لکھ کر وزیر اعلیٰ سورین کو خصوصی طور پر مشورہ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’کانگریس پارٹی کا ماننا ہے ہندوستان کے آئین میں درج پُرامن احتجاج کا حق ہماری جمہوریت کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ اسی لیے، ہم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا کو اپنی مکمل حمایت دینے کی پیشکش کی ہے۔‘‘
اس خط میں راہل گاندھی نے آر ایس ایس اور بی جے پی کا بھی ذکر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہمارا ماننا یہ بھی ہے کہ ہندوستانی تعلیمی نظام پر آر ایس ایس اور بی جے پی نے قبضہ کر لیا ہے اور اسے طلبا کے استحصال اور ظلم و زیادتی کے ایک آلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ وہ مضبوط نظامِ تعلیم نہیں رہا جو ایک دہائی پہلے ہوا کرتا تھا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، جھارکھنڈ میں بھی طلبا احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا احتجاج پُرامن رہا ہے۔ میں اس بات کی ستائش کرتا ہوں کہ جھارکھنڈ حکومت نے آپ کی تشکیل کردہ ایک کمیٹی کے ذریعہ ان کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ طلبا کی جانب سے اٹھائے گئے کئی مطالبات پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ تاہم، احتجاج جاری ہے اور کچھ طلبا غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے ہیمنت سورین کو لکھے اس خط میں نوجوانوں کی اہمیت بھی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’نوجوان ہی ہندوستان کا مستقبل ہیں۔ بحران کی اس گھڑی میں ہم ان کی یکجہتی اور حمایت کے شکر گزار ہیں۔ آپ ان کی بات سننے اور اس مسئلے کے حل کی سمت میں مناسب کارروائی کرنے کی پوری کوشش کریں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات کے عمل میں اصلاحات کے مطالبہ کو لے کر رانچی میں 24 دنوں سے طلبا کی تحریک جاری ہے۔ دیویندر ناتھ مہتو بھوک ہڑتال بھی کر رہے ہیں۔ اس دوران احتجاج کرنے والے طلبا کے ساتھ حکومت کے نمائندوں کی لگاتار بات چیت چل رہی ہے۔ آج بھی طلبا کے نمائندوں کو ریاستی حکومت نے بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔